نئی دہلی، 2 اکتوبر (یواین آئی) دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر ہرش ملہوترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر قومی دارالحکومت نئی دہلی اور ممبئی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کیے گئے احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے عوام ان کے ڈرامے کو دیکھ رہے ہیں اور انہیں مناسب جواب دیں گے۔
مسٹر ملہوترا نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر مسٹر کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر ’’ووٹ کے حق کو بچانے‘‘ کے نام پر دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی میں جو ڈرامہ کیا گیا، وہ جمہوریت کے تحفظ کی کوشش نہیں بلکہ پنجاب میں ممکنہ شکست کو چھپانے کی بزدلانہ کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کچھ بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاج کیا، لیکن حقیقت کیا ہے؟ دہلی کا نہ کوئی نوجوان وہاں آیا اور نہ ہی کوئی عام شہری۔ وہاں صرف ’آپ‘ کے 500 سے 600 کارکن اور رہنما موجود تھے۔ بغیر اجازت جمع ہوکر ٹریفک روکی گئی اور پھر ’’جمہوریت خطرے میں ہے‘‘ کا شور مچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہلی میں 10 سال تک بدعنوانی کی، شراب گھوٹالہ کیا اور اب شکست کے خوف سے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
دہلی بی جے پی کے صدر نے کہا کہ ممبئی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے کچھ طلبہ نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی سی جے پی ہے جسے چنڈی گڑھ اور دہلی کے طلبہ نے کیمپس انتخابات میں پوری طرح مسترد کر دیا تھا۔ صفر نشستیں ملنے کے بعد اب یہ سڑکوں پر شور مچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ’آپ‘ حکومت کی ناکامی، بے روزگاری اور بدتر ہوتی قانون و انتظام کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ تماشہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے ہمیشہ کھڑی ہے، لیکن ووٹ کے حق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ جھوٹ پھیلائیں، بھیڑ جمع کریں اور اداروں پر حملہ کریں۔





