آئیچی-ناگویا، 2 اکتوبر (یواین آئی) جمعہ کا دن ہندوستانی کھیلوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملنے والا ایسا دن رہا، جس میں سنسنی، حیرت اور کامیابی کے کئی یادگار لمحات ایک ساتھ دیکھنے کو ملے۔ ایک پہلوان نے 2-9 سے پچھڑنے کے باوجود طلائی تمغہ جیتا، تین باکسرز نے رنگ میں سونے کی جھڑی لگا دی، تیراندازوں نے آخرکار جنوبی کوریا کو شکست دی اور سب سے بڑھ کر خواتین کی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کا خطاب دوبارہ حاصل کرتے ہوئے 44 سال کا طویل انتظار ختم کردیا۔ ہندوستان 16 طلائی، 25 چاندی اور 35 کانسی سمیت 76 تمغے جیت کر تمغوں کی جدول میں پانچویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔
دن کا سب سے خاص لمحہ شام کو آیا، جب ہندوستان نے خواتین کی ہاکی کے فائنل میں چین کو 1-0 سے شکست دے کر ایشین گیمز کے خطاب کے لیے 44 سال کا انتظار ختم کیا۔ لالریمسِیامی نے اپنے 200ویں بین الاقوامی میچ میں 10ویں منٹ میں واحد گول کیا، جس کے بعد گول کیپر سَویتا پونیا اور مضبوط دفاع نے ہندوستان کی برتری برقرار رکھنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
چین نے پنالٹی کارنر، پنالٹی اسٹروک اور آخری منٹوں میں گول کیپر کو ہٹا کر ایک اضافی آؤٹ فیلڈ کھلاڑی کے ساتھ ہندوستان پر دباؤ بنایا، لیکن ہندوستان نے دفاع میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ فائنل کی سیٹی بجتے ہی ہندوستان نے نہ صرف طلائی تمغہ حاصل کیا بلکہ لاس اینجلس 2028 اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی بھی کرلیا۔
اگر ہاکی نے شام کو سنسنی پیدا کی تو سجیت کلکل نے دوپہر میں مشکل حالات سے شاندار واپسی کرتے ہوئے سب کو حیران کردیا۔ مردوں کے 65 کلوگرام فری اسٹائل فائنل میں ہندوستانی پہلوان سجیت کلکل تاجکستان کے عبدالمجید قدیئیف کے خلاف 2-9 سے پیچھے تھے اور ان کی جیت مشکل نظر آ رہی تھی۔ لیکن انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے دوسرے ہاف میں چار بار حریف کو پچھاڑا اور 10-9 سے کامیابی حاصل کرکے ہندوستان کو ان کھیلوں میں کشتی کا پہلا طلائی تمغہ دلایا۔ اس سے قبل سجیت نے سیمی فائنل میں موجودہ اولمپک چیمپئن جاپان کے کوٹارو کیوکا کو 3-3 کی برابری کے بعد معیار کی بنیاد پر شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔
باکسنگ رنگ میں بھی ہندوستان کی کارکردگی شاندار رہی۔ لَوِلینا بورگوہین نے خواتین کے 75 کلوگرام فائنل میں چین کی باؤ ژیئی کو متفقہ فیصلے سے شکست دے کر اپنا پہلا ایشین گیمز طلائی تمغہ جیتا۔ 2014 میں میری کوم کی کامیابی کے بعد ایشین گیمز میں خواتین کی باکسنگ میں ہندوستان کا یہ پہلا طلائی تمغہ تھا۔ اس کے بعد پروین ہڈا نے خواتین کے 65 کلوگرام فائنل میں چینی تائپے کی چن نین چن کو 3-2 سے شکست دے کر طلائی تمغہ جیتا۔ پھر انکش پنگھال نے مردوں کے 80 کلوگرام فائنل میں جنوبی کوریا کے کِم مِن سِیونگ کو شکست دے کر باکسنگ میں ہندوستان کی طلائی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔
اس کے بعد تیراندازوں کی باری آئی۔ انکتا بھکت، کیرتی اور کُنم موہود نے جنوبی کوریا کو شکست دے کر خواتین کے ریکرو ٹیم مقابلے میں ہندوستان کے لیے ایشین گیمز کا پہلا طلائی تمغہ جیتا۔ طلائی تمغے کے بعد مردوں کی ریکرو ٹیم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا، جسے فائنل میں جنوبی کوریا سے شکست ہوئی۔ اس کے علاوہ دھیرج بومّادیورا اور کُنم موہود کی مکسڈ ٹیم نے بھی چاندی کا تمغہ جیتا، کیونکہ فائنل میں چین کی ٹیم فاتح رہی۔
سیلنگ میں نیترا کُمانن نے ایک اور کانسی کا تمغہ ہندوستان کی جھولی میں ڈالا، جبکہ سیپک ٹاکرا کے مردوں کے کوآڈرینٹ مقابلے میں سیمی فائنل میں جاپان سے شکست کے باوجود ہندوستان نے اپنا پہلا تمغہ یقینی بنایا۔
گالف میں بھی پرنوی ارس نے ہندوستان کی موجودگی نمایاں رکھی۔ انہوں نے چار انڈر 68 کا اسکور کرتے ہوئے مجموعی اسکور 15 انڈر پار تک پہنچایا اور فائنل راؤنڈ سے قبل برتری حاصل کرلی۔
جب ہاکی کھلاڑی گلے میں طلائی تمغے سجائے میدان سے باہر نکلے، تب تک ہندوستان کے لیے یہ دن یادگار بن چکا تھا۔ اس دن تاریخ، مایوسی، شاندار واپسی اور ایسے لمحات سب ایک ساتھ دیکھنے کو ملے، جب اسکور بورڈ نے مقابلوں کو غیر ضروری طور پر مشکل بنا دیا تھا۔ تاہم، جمعہ کا دن ہندوستان کے نام رہا۔





