’بابائے قوم ایک قیمتی ورثہ چھوڑ گئے ہیں اور ان کا فلسفہ آج کے معاشرے اور دنیا کے لیے اہم اسباق فراہم کرتا ہے‘
سرینگر؍۲؍اکتوبر
گاندھی جینتی کے موقع پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ مہاتما گاندھی کے سچائی، عدم تشدد، خود انحصاری، وقار اور سماجی ذمہ داری کے نظریات تیزی سے بدلتی دنیا میں آج بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی انسانی اقدار اور انسانی فیصلے کی رہنمائی میں ہونی چاہیے۔
ایس کے آئی سی سی سری نگر میں منعقدہ ایک یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ۲؍ اکتوبر محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ شہریوں کے لیے مہاتما گاندھی کی زندگی، ناانصافی کے خلاف ان کے طریقۂ کار، خود انحصاری پر ان کے زور اور باوقار زندگی گزارنے کے عزم پر غور کرنے کا موقع ہے۔
سنہا نے کہا کہ مہاتما گاندھی ایک قیمتی ورثہ چھوڑ گئے ہیں اور ان کا فلسفہ آج کے معاشرے اور دنیا کے لیے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔
گاندھی کے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ مہاتما گاندھی راجا ہریش چندر کی کہانی سے بہت متاثر ہوئے تھے اور انہوں نے سچائی پر قائم رہنے کا عزم کیا تھا۔ ان کے مطابق گاندھی کی زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے گاندھی کے تعلیم سے متعلق تصور کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی تعلیم کو ایک ایسے سفر کے طور پر دیکھتے تھے جس کے ذریعے انسان زندگی کی گہرائی اور مقصد کو سمجھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق گاندھی نے سچائی کو اس سفر کا ایک لازمی حصہ قرار دیا تھا۔
بھارت کی آزادی کی جدوجہد، بالخصوص۱۹۴۲ کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ میں گاندھی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ان کے ’بھارت چھوڑو‘ کے نعرے نے ملک بھر کے لوگوں، جن میں بچے، نوجوان، خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے، کو متحرک کیا۔
سنہا نے کہا کہ گاندھی کا دکھایا ہوا راستہ آج بھی بھارت اور جموں و کشمیر کے لیے اہم ہے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ان کے نظریات پر عمل کریں۔
موجودہ تکنیکی دور کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مواصلات اور مصنوعی ذہانت نے روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے اور ایسے بے مثال مواقع پیدا کیے ہیں جن کے ذریعے دور دراز دیہات میں رہنے والے لوگ بھی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور طلبہ دنیا بھر کے اساتذہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی ترقی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی اور انسانی فیصلے کی رہنمائی میں ہونی چاہیے۔
سنہا نے کہا، ’’ٹیکنالوجی صرف ہمارا ذریعہ ہے اور فیصلہ کرنے کا اختیار انسانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ مشینوں کو انسانی فیصلے کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے، لیکن یہ تنہائی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اسی طرح آج دستیاب معلومات کی بے پناہ مقدار نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’ہمارے پاس معلومات کا سمندر ہے، لیکن سچ تلاش کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
سنہا نے خبردار کیا کہ جھوٹے پیغامات چند سیکنڈ میں پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں، جبکہ سچائی کو لوگوں تک پہنچنے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گاندھی نے سماجی ذرائع ابلاغ، اسمارٹ فونز یا مصنوعی ذہانت کے بغیر بھی سچ اور جھوٹ کے درمیان تعلق کو سمجھا تھا اور اپنی زندگی کو سچ کی تلاش کے تجربے کے طور پر گزارا۔
سنہانے کہا کہ گاندھی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ سچائی صرف ان کے پاس ہے۔ ان کے مطابق سچائی کو دوسروں پر دعوے کے طور پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’سچائی ایک عظیم عمل ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس کا مطلب جواب دینے سے پہلے تحقیق کرنا، دوسروں کی بات سننا اور سمجھنا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اصول بالخصوص نوجوانوں کے لیے اہم ہیں اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ موبائل فون، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا ذمہ داری اور اخلاقی انداز میں استعمال کریں۔انہوں نے گاندھی کے سماجی اتحاد کے پیغام کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا تنوع تاریخی طور پر اس کی طاقت رہا ہے۔ مختلف رسوم و رواج، روایات اور عبادت کے مختلف طریقے ایک ساتھ موجود رہ سکتے ہیں اور لوگ ایک معاشرے کے طور پر متحد ہو کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
گاندھی کی جانب سے معاشرے کے سب سے کمزور فرد پر دی جانے والی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ فیصلوں میں معاشرے کے حاشیے پر زندگی گزارنے والے لوگوں کے تجربات اور مفادات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات کے لیے انصاف، مختلف آرا کا احترام اور سماجی ذمہ داری کے چھوٹے چھوٹے اقدامات معاشرتی اتحاد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بھارت پر گاندھی کے اعتماد کو بھی اجاگر کیا اور ملک کے بارے میں ان کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی کا یقین تھا کہ بھارت میں بڑی امنگیں رکھنے والے لوگوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
خود انحصاری کے حوالے سے سنہا نے کہا کہ گاندھی کا تصور صرف بڑی صنعتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں دیہات، مقامی پیداوار کرنے والے افراد، مزدور، چھوٹی صنعتیں اور کسان بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار کو مضبوط بنانا اور مقامی صنعت کاروں اور پیداوار کنندگان کو عالمی منڈیوں سے جوڑنا خود انحصار بھارت کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے مواقع پیدا کرے۔
گاندھی کے ’امانت داری‘ کے تصور اور عوامی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ مہاتما گاندھی حقوق کے ساتھ فرائض پر بھی زور دیتے تھے اور لوگوں کو معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔انہوں نے بچوں اور نوجوانوں میں کردار سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کردار آج بھی معاشرے کی سب سے پائیدار بنیادوں میں سے ایک ہے۔
گاندھی کے خود احتسابی کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مسلسل دوسروں کے اعمال پر سوال اٹھانے کے بجائے اپنے اندر جھانکیں۔انہوں نے لوگوں سے غور کرنے کو کہا کہ آیا وہ سچ بول رہے ہیں یا افواہیں پھیلا رہے ہیں، بامعنی گفتگو کر رہے ہیں یا محض بول رہے ہیں، اور محنت کر رہے ہیں یا ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ انہیں ایسے مواقع اور تکنیکی وسائل میسر ہیں جن کا گزشتہ نسلیں تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں، جن میں اسمارٹ فون، مصنوعی ذہانت اور معلومات کی وسیع دنیا شامل ہے۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان وسائل کو احترام، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تاکہ ٹیکنالوجی انسانیت، معاشرے، جموں و کشمیر اور ملک کی خدمت کا ذریعہ بن سکے۔
۲۰۴۷ تک ترقی یافتہ بھارت کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ ملک کی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں کی تعداد یا معیشت کے حجم سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترقی کا پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ کتنے غریب اور پسماندہ لوگوں کو آگے لایا گیا اور ان کے لیے کتنے مواقع پیدا کیے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)










