سرینگر؍۲؍اکتوبر
لداخ میں ایک ایسی زمین، جو صرف تین ماہ قبل تک بنجر پڑی تھی، اب پہلی مرتبہ اعلیٰ معیار کے زعفران کی پیداوار کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔
لداخ میں للی کے پھولوں کی کھیتی کی شاندار کامیابی سے حوصلہ پاتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے لداخ کے سرد صحرائی خطے میں زعفران کی کاشت کا ایک اور زرعی تنوع کا تجربہ شروع کیا ہے۔ ایک اہم تجربے کے طور پر تقریباً۸۰۰ کلوگرام ایرانی زعفران کے کورمز، جن کی تعداد۹۰ ہزار ہے، تقریباً۴ ہزار مربع میٹر اراضی پر لگائے گئے ہیں۔ یہ زمین پہلے بنجر تھی جسے حال ہی میں پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت بحال اور دوبارہ قابلِ کاشت بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی نگرانی لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ کی رہنمائی میں کی جا رہی ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ زعفران کے یہ کورمز اچھی مقدار میں زعفران پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ اقدام وزیراعظم نریندر مودی کے اس وژن کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد روایتی زرعی طریقوں میں تنوع پیدا کرکے کسانوں اور نوجوانوں کے لیے مالی پائیداری اور معاشی خودمختاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
لداخ میں زعفران کی کاشت کا یہ منصوبہ انتظامیہ کی جانب سے زیادہ قدر والی پھولوں کی کاشت کے کامیاب تجربے، خصوصاً لہہ میں للی اور گلیڈی اولس کی بڑے پیمانے پر کاشت، کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ ان تجربات کے نتیجے میں کسانوں، خود امدادی گروپوں اور دیگر مقامی کاروباری افراد کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
زعفران کی تجرباتی کاشت لہہ کے اسپیتوک فارکا میں کمانڈ ایریا گیٹ نمبر۲۷ پر کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ معیار کے ایرانی زعفران کے کورمز استعمال کیے گئے ہیں، جن کا محیط۸ سے۱۰ سینٹی میٹر، قطر۲ء۵ سے۳ سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ اور وزن۱۰ گرام یا اس سے زیادہ ہے۔ ان خصوصیات کے حامل کورمز کو بہترین معیار کا سمجھا جاتا ہے اور انہیں اعلیٰ معیار کے زعفران کی پیداوار کے لیے موزوں قرار دیا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے کہا کہ زعفران کی کاشت میں مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، کیونکہ لداخ کے منفرد بلند پہاڑی زرعی و موسمی حالات میں ایک اور زیادہ قدر والی فصل متعارف کرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ اس تصور کو بھی غلط ثابت کرے گا کہ لداخ میں زعفران نہیں اگایا جا سکتا اور بنجر یا تباہ شدہ زمین کو دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہماری کوشش ہے کہ تباہ شدہ اور بنجر زمین کو پیداواری اثاثوں میں تبدیل کیا جائے اور اپنے کسانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ زعفران کا تعارف فصلوں میں تنوع پیدا کرنے کی جانب ایک اور اہم تجربہ ہے، جو زیادہ قدر والی فصل کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔‘‘
زعفران ایک اعلیٰ قدر والی فصل ہے جس کی منڈی میں مضبوط طلب موجود ہے اور اسے انتہائی قیمتی فصل کے طور پر بہتر قیمت ملتی ہے۔ اس طرح یہ کسانوں کو اضافی اور منافع بخش آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت میں جموں و کشمیر زعفران کی کاشت کا بنیادی خطہ ہے اور ملک کی مجموعی زعفران پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً۹۰ فیصد ہے۔ اسی لیے لداخ میں زعفران کی کاشت کا آغاز تجرباتی بنیاد پر کیا جا رہا ہے تاکہ خطے کے موسمی حالات سے اس کی مطابقت کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کی معاشی صلاحیت کا بھی اندازہ لگایا جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ زعفران کی کاشت کے لیے منتخب کی گئی یہ زمین۸۰۰؍ایکڑ اراضی کا حصہ ہے، جسے لہہ میں بحال کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قریبی ایگو۔پھی آبپاشی نہر سے تازہ پانی لایا جا رہا ہے۔ اس نہر کو حال ہی میں بحال کرکے دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر نہر کے غیر استعمال شدہ یا اضافی پانی کو بنجر زمین کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ زمین میں نمی کی مقدار بڑھائی جا سکے اور اسے کاشت کے لیے موزوں بنایا جا سکے۔
کمانڈ ایریا میں پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت چار آبی تالاب بھی قائم کیے گئے ہیں، جو زعفران کی کاشت کے مقام کے قریب واقع ہیں۔ ان چاروں تالابوں میں مجموعی طور پر تقریباً۲ کروڑ۴۰ لاکھ لیٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










