سر؍۲۴ ستمبر
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے انتودیا انا یوجنا (اے اے وائی) خاندانوں کو سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کے بجٹ وعدے کو حکومت نے منظوری دے دی ہے۔ اس طرح رواں سال پیش کیے گئے دوسرے بجٹ میں کیے گئے ایک اہم وعدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور امور صارفین ستیش شرما نے آج جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران ایوان میں اس منظوری کا اعلان کیا۔
وزیر نے ایوان کو بتایا، ’’میں اس معزز ایوان کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ اے اے وائی خاندانوں کے لیے سالانہ چھ مفت گیس سلنڈروں کی اسکیم کو مجاز اتھارٹی نے منظوری دے دی ہے۔ اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے ضروری احکامات جلد جاری کیے جا رہے ہیں۔‘‘ وزیر کے اعلان کے بعد ارکان اسمبلی نے میزیں تھپتھپا کر اس کا خیرمقدم کیا۔
اعلان کے فوراً بعد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام سے سب سے زیادہ مستحق خاندانوں کو براہِ راست ریلیف ملے گا اور حکومت کی عوامی فلاح و بہبود کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا، ’’اس اہم اقدام کا مقصد سب سے زیادہ مستحق خاندانوں کو براہِ راست راحت فراہم کرنا ہے تاکہ کمزور طبقات کو باوقار زندگی میسر آسکے اور سماجی انصاف و عوامی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔‘‘
عمرعبداللہ نے رواں سال فروری میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنا دوسرا بجٹ پیش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے اے اے وائی خاندانوں کو سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
اس اسکیم کے تحت جموں و کشمیر بھر کے اے اے وائی خاندانوں کو براہِ راست مالی سہارا ملے گا، جس سے کھانا پکانے کے ایندھن پر ہونے والے گھریلو اخراجات میں کمی آئے گی اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو اضافی مدد فراہم ہوگی۔
اس دوران جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے آج نیشنل کانفرنس حکومت کو عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اے اے وائی خاندانوں کو مبینہ طور پر۱۲ مفت ایل پی جی سلنڈروں کے سابقہ وعدے کے بجائے صرف چھ مفت سلنڈر فراہم کرنے کے حکومت کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ عوام حکومت سے اس معاملے میں وضاحت اور جواب دہی کے مستحق ہیں۔
قائد حزبِ اختلاف نے اے اے وائی خاندانوں کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے حکومت کے وعدے پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا، ’’آپ نے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود ایک بھی اے اے وائی خاندان کو یہ سہولت نہیں ملی۔ اگر آپ اس وعدے پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ مفت ایل پی جی سلنڈروں کا وعدہ کہاں سے پورا ہوگا۔‘‘
شرما نے کہا کہ حکومت کی ہر ناکامی کے لیے بظاہر ایک ہی جواز پیش کیا جاتا ہے اور وہ ہے ریاستی درجہ۔
بی جے پی لیڈر نے کہا، ’’ریاستی درجہ جموں و کشمیر کے عوام کی ایک اہم اور جائز خواہش ہے، لیکن اسے ہر انتظامی ناکامی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں اسے ریاستی درجہ ہو یا نہ ہو، بہرحال پورا کرنا ہوگا۔‘‘
قائد حزبِ اختلاف نے نیشنل کانفرنس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں کی ذمہ داری قبول کرے اور عوام کو شفاف جواب دے۔
شرما نے کہا، ’’اگر حکومت کے پاس کوئی اخلاقی جواز باقی ہے تو اسے خود کو تحلیل کر کے ریاستی درجہ بحال ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے عوام ایسی حکومت کے مستحق ہیں جو اپنے وعدے پورے کرے، اپنے ملازمین اور اساتذہ کی بات سنے اور صحت کی سہولیات کو فعال بنائے، بجائے اس کے کہ ہر ناکامی کا الزام حالات پر عائد کیا جائے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









