سرینگر؍۲۴ستمبر
سعودی سول ڈیفنس نے جمعرات کو مقدس شہر مکہ مکرمہ سمیت ملک کے دیگر علاقوں کے لیے انتباہ جاری کیا۔ اس طرح کے انتباہات عموماً میزائلوں کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ادارے نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا، ’’قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے شہر مکہ مکرمہ میں ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔‘‘
ایک ماہ کے دوران یہ دوسری بار ہے کہ حکام نے مکہ مکرمہ کے لیے اس طرح کا انتباہ جاری کیا ہے۔ مکہ مکرمہ اسلام کے مقدس ترین مقام کا شہر ہے۔
سعودی عرب کے مغربی ساحلی علاقوں کے لیے بھی الگ الگ انتباہات جاری کیے گئے، جن میں بحیرہ احمر کے ساحلی صوبے ینبع کے علاوہ طائف، جدہ اور تبوک کے علاقے شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یہ انتباہات چند منٹ بعد واپس لے لیے گئے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس طرح کے انتباہات یمن کے حوثی جنگجوؤں، جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے، کی جانب سے کیے جانے والے حملوں سے قبل جاری ہوتے رہے ہیں۔
اس دوران یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی فورسز نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرتے ہوئے سعودی شہروں طائف اور ینبع پر حملوں کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ حوثی گروہ کے ان اقدامات کا ’سخت اور بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔‘
ترکی المالکی نے مزید کہا کہ حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور مملکت کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔ویب ڈیسک









