سرینگر؍۲۳ ستمبر
لداخ میں امن، عوامی سکون اور سماجی ہم آہنگی کے وسیع تر مفاد میں گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو لہہ میں پیش آنے والے ناخوشگوار تشدد سے متعلق۲۰؍ افراد کے خلاف درج فوجداری مقدمات واپس لینے کی منظوری دی گئی ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ‘ونے کمار سکسینہ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایک جامع جائزے کے بعد لداخ پولیس نے۲۰؍ افراد کے خلاف ایف آئی آر نمبر۱۴۴ /۲۰۰۵ میںاختتامی رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی تھی۔ مذکورہ ایف آئی آر پولیس اسٹیشن لہہ میں درج کی گئی تھی اور اس معاملے میں بی این ایس ایس کی دفعہ۳۶۰کے تحت کارروائی کی گئی۔
بیان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ان۲۰؍ افراد کو اپنی زندگی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
سکسینہ نے کہا کہ طویل قانونی کارروائی جاری رکھنے کے بجائے انصاف اور زخموں پر مرہم رکھنے کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ لداخ میں زیادہ پُرامن، متحد اور ہم آہنگ معاشرے کے فروغ میں مدد دے گا۔
بیان میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے متعلق معاملات میں مسلسل رہنمائی اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
اس دوران ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے بدھ کے روز لہہ میں۲۴ ستمبر۲۰۲۵ کو ریاستی درجے اور لداخ کے لیے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کے مطالبے کو لے کر ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کی پہلی برسی کے موقع پر علامتی پدیاترا کی۔
اس تشدد میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ مارچ جمعرات کو منائے جانے والے شہید دیوس سے ایک روز قبل منعقد کیا گیا، جس میں لہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ تاہم، موسم کی بدلتی صورتحال کے باعث پدیاترا کو مختصر کر دیا گیا۔
کارکنوں کے آج شام۷بجے لہہ کے شہید میموریل پارک پہنچنے کا امکان ہے۔تاہم، پدیاترا میں لداخ کے مقامی لوگوں کی شرکت محدود رہی۔
منتظمین نے بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر خطے سے باہر بڑے پیمانے پر لوگوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی، کیونکہ لداخ میں متعدد افراد چاہتے تھے کہ یادگاری پروگرام کی قیادت مقامی لوگ خود کریں۔(ویب ڈیسک)









