نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ کی جانب سے ’وندے ماترم‘ سے متعلق سماعت کے دوران مذہبی عقیدے یا ضمیر کی بنیاد پر مذکورہ گیت نہ پڑھنے والے شخص کے خلاف تعزیری کارروائی نہ کیے جانے سے متعلق مؤقف کا حکیم اجمل خان فورم فار پیس اینڈ کمیونل ہارمنی کے قومی صدر جناب تیج لال بھارتی اور جنرل سکریٹری ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے مشترکہ طور پر خیرمقدم کیا۔
حکیم اجمل خان فورم فار پیس اینڈ کمیونل ہارمنی کے قومی صدر تیج لال بھارتی نے سپریم کورٹ کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایسا کوئی قانون نہیں بننا چاہیے جو آئین کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے ہر شہری، ہر ذات و برادری اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کو عزت و احترام اور مساوی حقوق عطا کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ پارلیمنٹ یا اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر کوئی قانون بنا کر اسے عوام پر مسلط کردیا جائے، بلکہ جمہوری نظام میں آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ بھی انتہائی اہم ہے۔ تیج لال بھارتی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی حقوق کی طرف توجہ دلانا جمہوری نظام کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق عدالت کی یہ کارروائی شہریوں کے آئینی حقوق اور ملک کے جمہوری اداروں پر اعتماد کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کا آئین ملک کے ہر شہری کو مساوات، مذہبی آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ اس لیے کسی شہری کے مذہبی عقیدے یا ضمیر کے خلاف کسی قسم کی زبردستی جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے شہری آزادی اور آئینی حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والا مؤقف ایسے وقت میں اہم ہے جب ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر بحث جاری ہے۔
حکیم اجمل خان فورم فار پیس اینڈ کمیونل ہارمنی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خاں نے بھی سپریم کورٹ کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص مذہبی بنیاد پر ’وندے ماترم‘ نہیں پڑھتا تو اس سے زبردستی نہیں کی جانی چاہیے اور نہ ہی محض اس بنیاد پر اس کے خلاف تعزیری کارروائی کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر سید احمد خاں نے مزید کہا کہ جمہوری ملک میں شہری کی مذہبی آزادی اور اس کے ضمیر کی آزادی کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے اس آئینی پہلو کو اہمیت دیے جانے کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ملک میں آئین سب سے بالاتر ہے اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کا بنیادی لازمی جزو ہے۔ کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے یا ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا قطعی مناسب نہیں ہے۔






