سری نگر؍۲۲ ستمبر
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد لون نے بجلی پالیسی کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جس حکومت نے صارفین کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اسی نے بجلی کے نرخوں میں حالیہ نظرثانی کے ذریعے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ میں صارفین سے مزید۲۵۱کروڑ روپے وصول کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔
سجاد لون نے کہا، ’’این سی کی زیر قیادت حکومت نے اگرچہ صارفین کو۲۰۰ یونٹ مفت بجلی فراہم نہیں کی، لیکن آج میرے سوال کے جواب میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ بجلی نرخوں میں اضافے کے نتیجے میں صارفین سے۲۵۱ کروڑ روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے جواب سے واضح ہوتا ہے کہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کی منظور کردہ نئی شرحوں کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو مزید۲۵۱ کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔ حکومت نے اس اضافے کی وجہ بجلی کی فراہمی کی لاگت اور موجودہ نرخوں کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی کے درمیان موجود فرق کو قرار دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کے وعدے کے دفاع میں یہ کہا گیا ہے کہ اہل گھرانوں کو’ریسکو‘ بنیاد پر چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت۲ کلوواٹ کے نظام نصب کیے جائیں گے۔ سجاد لون نے تاہم کہا کہ اس سہولت کا فائدہ نظام کی تنصیب اور فعال ہونے کے بعد ہی حاصل ہوگا، جبکہ حکومت نے اب تک یہ اعداد و شمار ریکارڈ پر نہیں رکھے کہ کتنے گھرانوں میں یہ نظام حقیقتاً فعال کیے جا چکے ہیں۔
سجاد لون نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ اکتوبر۲۰۲۴ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جموں و کشمیر میں۱۱ لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔
’(ندائے مشرق ڈیک)
’’’’’’’










