جموں؍۲۲ ستمبر
مبینہ طور پر مشکوک حالات میں جان گنوانے والی ایک۴۰ سالہ خاتون کی آخری رسومات منگل کے روز آر ایس پورہ علاقے میں واقع اس کے گھر کے احاطے میں ادا کی گئیں۔ مشتعل دیہاتیوں نے لاش کو شمشان گھاٹ لے جانے کے بجائے گھر کے لان میں ہی آخری رسومات ادا کیں۔
حکام کے مطابق سشما دیوی، جو ارنیا کے سائی سرداری گاؤں کی رہائشی اور دو کم سن بچوں کی ماں تھی، پیر کے روز اپنے کمرے میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ واقعے کے بعد اس کے والدین اور گاؤں کے لوگوں نے احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ اسے اس کے شوہر اور سسرال والوں نے قتل کیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ (ہیڈکوارٹرز) انا سنہا نے بتایا کہ سشما دیوی کی مشتبہ موت کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک گرفتار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چھ رکنی میڈیکل بورڈ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اور موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
حکام کے مطابق مشتعل لوگوں نے پیر کے روز گھر میں توڑ پھوڑ کی کوشش بھی کی، تاہم بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد خاتون کی لاش کو دوبارہ اس کے گھر لایا گیا، جہاں احتجاج کے طور پر دیہاتیوں نے گھر کے لان میں ہی اس کی آخری رسومات ادا کیں۔
ایس پی ہیڈکوارٹرز نے کہا کہ پولیس نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے اندر تین افراد کو گرفتار کر لیا۔
سنہا نے کہا، ’’کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ گرفتار افراد کے بیانات پولیس اسٹیشنوں میں قلمبند کیے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران ایس پی سنہا نے خواتین سے بھی اپیل کی کہ اگر انہیں اپنے سسرال میں کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا ہو تو وہ پولیس سے رجوع کریں اور باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائیں۔
انہوں نے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے والی خواتین سے کہا کہ وہ۱۱۲ پر کال کریں۔ ان کے مطابق یہ کال پولیس کنٹرول روم میں ریکارڈ کی جاتی ہے اور اسے قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کیا جاتا ہے، جس کے بعد موقع پر ہنگامی ردعمل فراہم کرنے والی گاڑی روانہ کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










