واشنگٹن/کیف، 19 ستمبر (یو این آئی) امریکی محکمہ خارجہ نے یوکرین کو 2.68 ارب ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی سازوسامان اور متعلقہ خدمات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یوکرین کو روسی حملوں میں شدت کا سامنا ہے اور اس کے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے۔
محکمہ خارجہ نے جمعہ کو کانگریس کو بھیجے گئے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ اس نے یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کی ترقی و اپ گریڈ، سازوسامان اور خدمات کی ممکنہ غیر ملکی فوجی فروخت کی منظوری دی ہے۔ مجوزہ معاہدے کا ابھی کانگریس سے جائزہ لیا جانا باقی ہے۔
یوکرین نے ایس-300 کے طرز کے میزائل، جی اے ایم-67 میزائل اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے لیزر گائیڈڈ فضائی دفاعی راکٹ سسٹم کے ساتھ لانچرز، موبائل لانچ سسٹم میں تبدیلی کی کٹس، ڈرون شکن ریڈار، ٹریلرز، دیگر سازوسامان اور اسپیئر پارٹس کی درخواست کی ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ اگر یہ خریداری مکمل ہوجاتی ہے تو یوکرین اس کی ادائیگی یورپی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ رقوم اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران مختص کیے گئے امریکی غیر ملکی فوجی مالیاتی فنڈز کے امتزاج سے کرے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق غیر ملکی فوجی مالیاتی فنڈز کو ایک کے مقابلے میں ایک کی بنیاد پر رقم کی واپسی کے ذریعے امریکہ-یوکرین تعمیر نو سرمایہ کاری فنڈ میں امریکی شراکت کے طور پر شمار کیا جائے گا۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بارہا یورپی ممالک سے یوکرین کی حمایت کے اخراجات کا زیادہ حصہ برداشت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ یورپی حکومتوں سے بائیڈن انتظامیہ کے دوران کیف کو فراہم کی گئی فوجی امداد کے عوض واشنگٹن کو رقم واپس کرنے کا مطالبہ کریں گے۔
تازہ ترین ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق فیصلہ اسی روز سامنے آیا جب مسٹر ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر روس کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے اضافی پابندیاں عائد کرنے والے قانون پر دستخط کیے۔
مرحوم ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے موسوم اس قانون میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے اور صدر ولادیمیر پوتن سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں۔
روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے ٹیلی گرام پر پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے ردعمل میں ’’فوجی بازداریت‘‘ شامل ہونی چاہیے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اس قانون کی ان کے بقول ’’روس مخالف زیادتیوں‘‘ کا جواب دے گا۔





