واشنگٹن، 19 ستمبر (یو این آئی) امریکہ اور ڈنمارک نے گرین لینڈ کی سلامتی کے حوالے سے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس سے اس سفارتی تنازعے کا حل ہو گیا ہے جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اس علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کی دھمکی کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یہ اطلاع ہفتہ کو بی بی سی کی رپورٹ سے موصول ہوئی۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ کو سلامتی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ یہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے علاقے میں سلامتی کو مضبوط کرتا ہے، لیکن انہوں نے معاہدے کی ان خاص باتوں کا ذکر نہیں کیا جن کا ذکر مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کیا تھا۔
یہ معاہدہ مسٹر ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی کے خدشات کے تعلق سے کئی ماہ سے گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں لینے کی دی جانے والی دھمکیوں کے بعد ہوا ہے، جس میں انہوں نے دفاعی مقاصد کے لیے اس کی اسٹریٹجک حیثیت اور اس کے معدنی وسائل کا حوالہ دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ پر کوئی خرچ نہیں آئے گا اور اس سے امریکہ کو گرین لینڈ کی سلامتی یقینی بنانے اور اس کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں ایک اصول شامل ہے کہ امریکہ کے کسی بھی دشمن کی گرین لینڈ میں فوجی موجودگی نہیں ہوگی اور نہ ہی امریکہ کی واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں حساس سرمایہ کاری کی جا سکے گی۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم نے تصدیق کی کہ اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے علاقے میں ہماری مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرتا ہے اور ساتھ ہی مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے لوگوں کے حق خود ارادیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کو ابھی بھی ارکان پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے اور اسے نافذ ہونے کے لیے ضروری پارلیمانی کارروائی سے گزرنا ہوگا۔
گرین لینڈ حکومت کے چیئرمین یینس فریڈرک نیلسن نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ "یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے والے ہیں جو گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کی سلامتی کو یقینی اور مضبوط کرے گا۔”
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے تاریخی معاہدہ اور امریکہ اور امریکی عوام کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ معاہدہ گرین لینڈ میں ہماری قومی سلامتی سے متعلق تشویش کا مستقل اور مکمل حل کرتا ہے۔”
اس معاہدے کا کوئی بھی متن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے ڈنمارک کے سفارت خانے اور وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک نامعلوم عہدیدار نے کوئی خاص معلومات دیے بغیر اس معاہدے کے خدوخال بتائے۔
اتفاق رائے والی شرائط میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر مستقبل میں گرین لینڈ ایک آزاد ملک بن جاتا ہے، تب بھی یہ معاہدہ ختم نہیں ہوگا۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ یا ڈنمارک کی منظوری کے بغیر اضافی فوجی ڈھانچہ قائم کرنے کا یک طرفہ حق حاصل ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس میں "مستقل رسائی، اڈے بنانے اور اوپر سے پرواز کرنے کے حقوق” شامل ہیں۔
یہ غیر ناٹو ممالک کو گرین لینڈ میں اڈے بنانے سے بھی روکتا ہے اور "مخالف ممالک کو گرین لینڈ میں ایسی سرمایہ کاری کرنے سے روکتا ہے جس سے امریکہ کو خطرہ ہو سکتا ہے”۔ عہدیدار نے خاص طور پر روس اور چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں "حساس علاقوں” میں فوجی تعینات کرنے یا سرمایہ کاری کرنے سے روکتا ہے۔
سرکاری متن جاری کیے بغیر یہ واضح نہیں ہے کہ یہ معاہدہ ڈنمارک کے ساتھ 1951 کے اس معاہدے سے کس طرح مختلف ہے، جس کے تحت امریکہ گرین لینڈ میں جتنے چاہے فوجی بھیج سکتا ہے۔ اس علاقے کے شمال مغربی سرے پر واقع امریکہ کے پِٹوفِک اڈے پر پہلے ہی 100 سے زیادہ فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں۔





