پیانگ یانگ، 19 ستمبر (یو این آئی) شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر تنقید کرنے والی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کو کہا کہ جوہری طاقت کی حیثیت ناقابل واپسی ہے اور ملک کا جوہری دفاعی نظام اس حیثیت کی ضمانت دیتا ہے۔ سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کی جانب سے جاری بیان میں یہ بات کہی گئی۔
ایک الگ بیان میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جوہری نگرانی کے ادارے پر ’’دوہرے معیار‘‘ اپنانے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کا ’’متعصبانہ نقطہ نظر اور دوہرا معیار‘‘ بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے زوال کا ’’بنیادی سبب‘‘ ہے۔
کم یو جونگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے امریکہ کی ’’کھلی جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں‘‘ اور جنوبی کوریا کے ’’جوہری آبدوزیں متعارف کرانے کے منصوبے‘‘ سے آنکھیں بند کرلیں، جبکہ اس ادارے نے شمالی کوریا کی ’’اپنے دفاع کے لیے جائز جوہری سرگرمیوں‘‘ کے خلاف زبردستی قرارداد منظور کرلی۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے بھی آئی اے ای اے کی اس ہفتے ہونے والی جنرل کانفرنس کے دوران ’’دشمن قوتوں‘‘ پر ملک کے جوہری پروگرام کے خاتمے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔
وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’’افسوسناک طور پر امریکہ اور مغرب کی تیار کردہ یہ ’قرارداد‘ جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کی حیثیت سے ڈی پی آر کے کے مؤقف پر کوئی اثر نہیں ڈالتی۔‘‘ ڈی پی آر کے سے مراد شمالی کوریا کا سرکاری نام ’’ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا‘‘ ہے۔
سرکاری میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ کم جونگ اُن نے اس ہفتے اہم اسلحہ ساز فیکٹریوں کا تین روزہ دورہ اور معائنہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2024 میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد سے شمالی کوریا روس کی مدد سے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کی جنگ میں تعینات شمالی کوریائی فوجیوں کو حاصل ہونے والے جنگی تجربے نے بھی اس کوشش میں مدد دی ہے۔
کے سی این اے نے بتایا کہ کم جونگ اُن نے جمعہ کو پیانگ یانگ میں پروپیگنڈا کارکنوں کے تربیتی اجلاس سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ’’نظریاتی جنگ‘‘ میں پرانے طریقوں کو دہرانے کے بجائے جدت، تخلیقی صلاحیت اور جارحانہ انداز اپنانا ضروری ہے۔
کم یو جونگ نے جہاں امریکہ اور جنوبی کوریا کے حق میں مبینہ دوہرے معیار پر تنقید کی، وہیں دونوں ممالک نے حالیہ عرصے میں شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جمعہ کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں اور سیئول ممکنہ مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کرے گا۔
ٹرمپ، جو اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ قائم ہونے والے تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اواخر میں شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ’’اچھے تعلقات رکھنا‘‘ اہم ہے، اور دعویٰ کیا تھا کہ پیانگ یانگ کے پاس اب 57 ’’انتہائی طاقتور‘‘ جوہری ہتھیار موجود ہیں۔




