نیویارک، 18 ستمبر (یواین آئی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔ امریکہ کی جانب سے انہیں نیویارک میں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوبارہ ویزا دینے سے انکار کے بعد جنرل اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا۔
قرارداد کے حق میں 152 ووٹ پڑے، جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی اور چار نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کے تحت عباس اور فلسطین کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آئندہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں دور سے شرکت کی اجازت ہوگی، اگر وہ امریکہ کا سفر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی عہدیداروں، جن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں، پر ویزا پابندیوں میں توسیع کردی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال پہلی بار یہ پابندیاں عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ تقریباً 80 فلسطینی ان سے متاثر ہوں گے۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر فلسطینی اتھارٹی کو شراکت دار سمجھا جانا ہے تو اسے دہشت گردی کی مالی معاونت بند کرنی ہوگی اور سنجیدہ حکمرانی کے متبادل کے طور پر سفارتی تماشے کا استعمال روکنا ہوگا۔‘‘
فلسطینی رہنماؤں نے امریکی فیصلے کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی اقدام کو مسترد کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ فلسطینی عہدیداروں کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے، کیونکہ اس کے مطابق ان کے بعض اقدامات کا مقصد ’’اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا‘‘ ہے، جس میں بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے اسرائیل کے خلاف مقدمات کی پیروی بھی شامل ہے۔
لسطینی حکام کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ محمود عباس کو امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔
1947 کے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت امریکہ عام طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کو نیویارک میں اقوام متحدہ تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ تاہم، واشنگٹن کا موقف ہے کہ اسے سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ویزا مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔







