کینبرا، 18 ستمبر (یو این آئی) آسٹریلیا نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف وسیع تر کارروائی کے تحت ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں مقیم افراد کو حراست میں لینے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ آسٹریلین بارڈر فورس اپنی ٹیم میں 100 نئے تعمیلی افسران کا اضافہ کرے گی، جو اس وقت آسٹریلیا میں بغیر درست ویزا کے مقیم تقریباً 77,000 افراد کو حراست میں لینے یا ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کے لیے دوبارہ قانونی نتائج کا نظام نافذ کرنا ہے۔
برک نے نیشنل پریس کلب میں کہا کہ 2015 سے قبل آسٹریلیا میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کے لیے ایک معمول کا طریقہ کار موجود تھا، جس کے تحت ایسے افراد کو حراستی مراکز منتقل کیا جاتا تھا اور چند ہفتوں کے اندر وہ خود اپنی پرواز کا انتظام کرکے ملک چھوڑ دیتے تھے۔
اس کارروائی کے لیے مزید 250 حراستی بستروں کا انتظام کیا جائے گا، جس میں میلبورن میں قائم ایک سابق قرنطینہ مرکز کے ممکنہ استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔
برک نے اس اقدام کا امریکہ کی سخت گیر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنسی سے موازنہ مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اس نوعیت کی کارروائی نہیں ہے جو بعض لوگوں نے دوسرے ممالک میں ٹیلی ویژن پر ہوتے دیکھی ہے۔‘‘
برک نے یہ بھی کہا کہ حکومت ’’ویزا ہاپنگ‘‘ کے خلاف کارروائی کرے گی۔ کینبرا کے مطابق اس سے مراد ایسے غیر ملکی افراد کا ایک عارضی ویزا ختم ہونے یا مدت میں توسیع کی ضرورت پڑنے پر آسٹریلیا میں رہتے ہوئے دوسرے نوعیت کے عارضی ویزا کے لیے درخواست دینا ہے۔
ایک نئی ’’نو فرْدر اسٹے‘‘ (مزید قیام نہیں) شق کے تحت سیاحتی ویزا پر آسٹریلیا آنے والے افراد کو ملک کے اندر رہتے ہوئے نئی ویزا درخواستیں جمع کرانے سے روکا جائے گا۔
اسی طرح غیر ملکی طلبہ کے لیے لازم ہوگا کہ وہ نئے اسٹوڈنٹ ویزا کے حصول کے وقت اپنی تعلیمی قابلیت میں پیش رفت ظاہر کریں۔ اس اقدام کا مقصد کم معیار کے تعلیمی اداروں میں مختلف کورسز کے درمیان منتقل ہو کر قیام کی مدت بڑھانے کا راستہ بند کرنا ہے۔
برک نے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے الگ قانون سازی درکار ہوگی جو ان کے بقول ملک میں قیام کی مدت بڑھانے کے لیے ’’غیر مخلصانہ‘‘ پناہ کے دعوے دائر کرتے ہیں۔
حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس لا سینٹر نے خبردار کیا کہ نئی پالیسی استحصال کا شکار غیر دستاویزی کارکنوں کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی شکایت کرنے سے روک سکتی ہے۔
آسٹریلیا کی حکمران لیبر پارٹی نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ویزا قوانین میں سختی ملک میں دائیں بازو کی جماعت ون نیشن پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔ یہ جماعت 2026 میں ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئی ہے۔
آسٹریلیا دنیا کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں ساحلوں، جنگلی حیات اور شہروں کی وجہ سے ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ ملک بین الاقوامی طلبہ اور ورکنگ ہالیڈے ویزا رکھنے والوں پر بھی ہجرت اور اقتصادی سرگرمی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر خاصا انحصار کرتا ہے۔
ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ یہ تعداد 2016 میں تقریباً 64,000 تھی جو 2026 میں بڑھ کر 77,000 سے تجاوز کر گئی، حالانکہ بیرون ملک سے خالص ہجرت میں کمی آئی ہے۔







