واشنگٹن، 16 ستمبر (یو این آئی) ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر مالیت کے 907 کلوگرام (2,000 پاؤنڈ) وزنی بموں کا پیکیج فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کی سب سے بڑی واحد فروخت ہوگی۔
اس پیکیج کی مالی اعانت فارن ملٹری فنانسنگ کے ذریعے کی جائے گی، جس کے تحت واشنگٹن اسرائیل کو رقم فراہم کرتا ہے اور اسرائیل اس رقم سے امریکی ہتھیار خریدتا ہے۔ پیکیج میں مجموعی طور پر 40,000 بم شامل ہیں، جن میں 20,000 ایم کے-84 عمومی استعمال کے بم اور 20,000 بی ایل یو-117 بم شامل ہیں۔ بی ایل یو-117، ایم کے-84 کا حرارتی تہہ والا ورژن ہے، جسے بحری جہازوں پر زیادہ محفوظ ذخیرہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی-2000 پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی شامل ہیں، جو مضبوط اور زیرِ زمین ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایم کے-84 کو پہلی خلیجی جنگ کے دوران امریکی پائلٹوں نے ’’ہتھوڑا‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ مغربی ممالک کے ہتھیاروں میں شامل انتہائی تباہ کن بموں میں شمار ہوتا ہے، جو دھاتی ٹکڑوں کو سیکڑوں میٹر تک پھیلا سکتا ہے اور موٹے کنکریٹ کو بھی پھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے ایک نامعلوم وفاقی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا، ’’امریکی ساختہ مارک 84 کی تباہی کا دائرہ نصف میل ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بم شدید حرارتی لہر پیدا کرتا ہے اور اپارٹمنٹ عمارتوں کو منہدم کرنے کے ساتھ 35 فٹ گہرے گڑھے بھی بنا سکتا ہے۔
اس معاہدے کے بارے میں کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے صرف اتنا کہا کہ ’’تمام غیر ملکی ہتھیاروں کی فروخت مناسب طریقہ کار کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘ محکمہ خارجہ نے کہا کہ کانگریس کو باضابطہ اطلاع دینے سے قبل مجوزہ ہتھیاروں کی فروخت پر تبصرہ نہیں کیا جاتا۔
اسرائیل غزہ اور لبنان میں 907 کلوگرام وزنی بم سیکڑوں مرتبہ استعمال کر چکا ہے، جن میں ایسے علاقے بھی شامل ہیں جنہیں اس نے شہریوں کے لیے محفوظ قرار دیا تھا۔ اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں شہری ہلاکتوں کے خدشات کے پیش نظر ایسے ہی بموں کی ایک کھیپ روک دی تھی۔ غزہ جنگ کے دوران یہ واحد قسم کا ہتھیار تھا جس کی ترسیل بائیڈن انتظامیہ نے روکی تھی، تاہم ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی ماہ اس پابندی کو ختم کر دیا تھا۔
یہ مجوزہ فروخت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے اور واشنگٹن میں اسرائیل کو غیر مشروط فوجی حمایت فراہم کرنے پر دونوں جماعتوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا کہ وہ اس فروخت کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ ’’امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے خریدے گئے بم ایک ایسی حکومت کو بھیج رہے ہیں جس کی قیادت ایک مطلوب جنگی مجرم کر رہا ہے۔‘‘
سابق کانگریس رکن مارجوری ٹیلر گرین نے کہا، ’’ہم نے اس کے لیے ووٹ نہیں دیا تھا۔ امریکہ اس کی حمایت نہیں کرتا۔ ہمارے ٹیکس کے پیسے اور ہتھیار دسیوں ہزار بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔‘‘
کارلسن نے تقریباً 3 ارب ڈالر کے اس پیکیج کو اسرائیلی حکومت کے لیے ’’تحفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت ’’غزہ میں غیر مسلح شہری آبادی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے‘‘۔ انہوں نے امریکی سینیٹ اور کانگریس ارکان سے معاہدے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے امریکی پروگرام کے سینئر مشیر برائن فنیگن نے کہا کہ یہ فروخت ’’اسرائیل پر اعتماد کا اظہار‘‘ کرتی ہے، چاہے یہ غیر ارادی طور پر ہی ہو، ایسے وقت میں جب امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہاں ہونے کا کہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فروخت کا وقت اسرائیل کی جانب سے دانستہ طور پر منتخب کیا گیا معلوم ہوتا ہے تاکہ موجودہ مرحلے میں امریکہ کی وسیع فوجی حمایت کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مستقبل کی کوئی امریکی انتظامیہ اس طرح غیر مشروط حمایت فراہم نہ کرے۔






