ٹوکیو، 16 ستمبر (یو این آئی) جاپان میں 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد اس سال بڑھ کر 1,07,677 ہو گئی ہے۔ ملک میں پہلی بار صدی سے زائد عمر کے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق جاپان میں سو سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس تعداد میں 7,914 کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر خواتین ہیں، جن کی تعداد 94,298 ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جاپان کی مجموعی آبادی 12 کروڑ 23 لاکھ ہے۔
جاپان ٹائمز کے مطابق ملک میں 100 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ 1963 میں، جب جاپان نے بزرگوں کے لیے ’سماجی بہبود قانون‘ نافذ کیا تھا، اس وقت ملک بھر میں 100 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد صرف 153 تھی۔ یہ تعداد 1981 میں ایک ہزار، 1998 میں 10 ہزار اور 2012 میں 50 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔
جاپان کی سب سے معمر شخصیت فویو کشیموتو ہیں، جو کیوٹو شہر کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دسمبر میں اپنی 114ویں سالگرہ منائی تھی۔ اگست میں نارا پریفیکچر کے یاماتوکوریاما کی رہائشی شیگیکو کاگاوا کے انتقال کے بعد وہ جاپان کی سب سے معمر زندہ شخصیت بن گئیں۔ کاگاوا کی عمر 115 سال تھی۔
جاپان کے سب سے معمر مرد ہیکارو کاتو ہیں، جو کُما موتو شہر کے رہائشی ہیں اور مئی میں 112 سال کے ہوئے۔
جاپانی شہری دنیا میں سب سے زیادہ طویل عمر پانے والی آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں مردوں کی اوسط متوقع عمر 81.35 سال اور خواتین کی 87.33 سال ہے، جو عالمی سطح پر بالترتیب ساتویں اور پہلے مقام پر ہے۔
جاپان کی وزارت صحت ہر سال یکم ستمبر تک کے آبادیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر 15 ستمبر کو 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی سرکاری تعداد کا اعلان کرتی ہے۔







