لندن، 11 ستمبر (یو این آئی) فلسطین کے حامی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر گزشتہ سال کنگز کالج لندن (کے سی ایل) سے معطل کیے گئے 22 سالہ مصری طالب علم اسامہ غانم دوبارہ یونیورسٹی پہنچ گئے ہیں۔
کنگز کالج لندن نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں اسامہ غانم کی معطلی ختم کردی، جس کے بعد انہیں بین الاقوامی مطالعات کے ڈگری پروگرام کے تیسرے اور آخری سال کی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔
غانم نے کہا، ’’ہم جیت گئے۔ مجھے فلسطین کے لیے اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔ جن ناانصافیوں اور جس عمل سے مجھے گزرنا پڑا، وہ انتہائی تلخ محسوس ہوا، لیکن اس کے خلاف لڑنا بھی ضروری تھا۔‘‘
الجزیرہ کے مطابق مئی 2025 میں غانم کو بھیجے گئے ایک خط میں کے سی ایل نے ان پر کئی غیر تعلیمی بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا تھا، جن میں ’’دھمکانے اور معاندانہ انداز میں برتاؤ‘‘، ایک تقریب میں خلل ڈالنا، ’’ضابطہ کار کی خلاف ورزیاں‘‘ اور ’’صحت و سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کرنا‘‘ شامل تھا۔
یونیورسٹی کے عملے کے دستخط شدہ خط میں یہ بھی کہا گیا تھا، ’’معطلی کی اس مدت کے دوران آپ کو اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا۔‘‘
تادیبی کارروائی کے نتیجے میں غانم کا ویزا بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔ تاہم، وہ اس سے قبل مصر میں اپنی سرگرمیوں کے باعث حراست میں لیے جاچکے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وطن واپس جانے کی صورت میں انہیں ظلم و ستم کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
یونیورسٹی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور اپنی تعلیم میں تاخیر قبول کرنے کے بعد غانم نے الجزیرہ سے کہا، ’’میرے پاس اب صرف اپنے یقین کے سوا کچھ نہیں بچا اور مجھے زندگی بھر صرف اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں نے فلسطینی عوام کے لیے مزید کچھ نہیں کیا۔‘‘
مہم چلانے والی تنظیم کیج (Cage) نے کہا، ’’یہ صرف غانم کی فتح نہیں بلکہ کنگز، پورے لندن اور اس سے باہر ہر اس طالب علم کی فتح ہے جس نے فلسطین اور احتجاج کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔‘‘
جولائی میں الجزیرہ اور لبرٹی انویسٹی گیٹس نے رپورٹ کیا تھا کہ اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 کے درمیان فلسطین کے حامی احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کے سی ایل کے کم از کم 26 طلبہ کو تادیبی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل کی غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے برطانیہ کی متعدد جامعات کو کیمپس میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کے مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کا سامنا ہے۔
یورپی لیگل سپورٹ سینٹر نے رواں سال کے اوائل میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کرنے والے طلبہ، ماہرین تعلیم اور اساتذہ کے خلاف وسیع پیمانے پر مبینہ کریک ڈاؤن کی دستاویزات پیش کی تھیں اور کہا تھا کہ تعلیمی ادارے اس کارروائی کی قیادت کرنے والوں میں شامل ہیں۔
کے سی ایل کا کہنا ہے کہ اس نے طلبہ کو ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے تادیبی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا۔
یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ کے سی ایل نے غانم کی معطلی کی ’’اصل وجوہات برقرار رکھی ہیں‘‘، تاہم اس بات کا تعین کیا گیا کہ انہوں نے ’’معطلی کے لیے طے شدہ شرائط پوری کردی ہیں اور اس لیے دوبارہ داخلہ مناسب نتیجہ تھا۔‘‘
ترجمان نے کہا، ’’ہم ہمیشہ بدسلوکی سے متعلق کارروائیوں میں منصفانہ طریقہ اختیار کریں گے اور جہاں رویہ حفاظتی اور سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرے یا دوسروں کو خطرے میں ڈالے وہاں کارروائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ویزا اسپانسرشپ سے متعلق فیصلے کے سی ایل نہیں کرتا، تاہم یونیورسٹی پر ’’طالب علم کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کی اطلاع یوکے ویزا اینڈ امیگریشن (UKVI) کو دینا قانونی ذمہ داری ہے۔‘
الجزیرہ کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے سی ایل نے احتجاجی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ہورس نامی ایک نجی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔ یہ کمپنی سابق فوجی انٹیلی جنس اہلکار چلاتے ہیں۔
غانم کے معاملے میں بظاہر کمپنی نے یونیورسٹی کو ’’معطل کیے گئے طالب علم‘‘ کی حمایت میں ہونے والے آئندہ مظاہروں سے آگاہ کیا تھا۔
غانم نے کہا، ’’وہ خاص طور پر میری نگرانی میں مصروف رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ بالکل واضح ہے کہ کنگز نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔‘‘
کے سی ایل نے غانم کی نگرانی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہورس کی جانب سے جمع کی جانے والی تمام معلومات پہلے ہی دوسری جگہ عوامی طور پر دستیاب ہوتی ہیں۔‘‘
یونیورسٹی نے کہا، ’’ہم ہورس کو اپنے کیمپس میں یا اس کے قریب ہونے والے مظاہروں سمیت کسی بھی موضوع پر ہونے والے واقعات کی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘‘
کے سی ایل کے ساتھ تنازع کے دوران سیکڑوں طلبہ اور متعدد ماہرین تعلیم نے غانم کی حمایت کی، جن میں ایسوسی ایشن آف اسٹوڈنٹ ایکٹیوزم فار فلسطین (ASAP) بھی شامل ہے۔
ASAP نے الجزیرہ کو بتایا، ’’کے سی ایل کا اسامہ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ جب طلبہ اور وسیع تر برادری اپنی جامعات کے دھمکانے کے حربوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں تو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘‘
تنظیم نے کہا، ’’اس فتح نے ہمیں دکھایا ہے کہ جب ہم بلاخوف انصاف کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو طلبہ اور وسیع تر تحریک کے پاس کتنی طاقت ہوتی ہے۔‘‘





