نئی دہلی، 05 ستمبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے خواتین کو بااختیاربنانے اور طلباء کے معاملے پر کانگریس اور انڈیا اتحاد پر دکھاوے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ جھارکھنڈ کے پیپر لیک معاملے نے طلباء کے مفادات کے تعلق سے ان کے دعووں کی حقیقت کی پول کھول دی ہے۔
بی جے پی ترجمان سدھانشو ترویدی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی جانچ کے عمل میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جو بہت چونکانے والی ہیں اور طلباء کے مفادات سے متعلق کانگریس کی قیادت والے انڈیا اتحاد کے دعووں کی اصلیت کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ میں ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فارسٹ اور فارسٹ رینج آفیسر کے امتحان کے لیے بنے اسٹرانگ روم کو توڑا گیا، سوالنامے نکالے گئے اور ان میں تبدیلیاں کی گئیں۔ دوسرے لفظوں میں، جھارکھنڈ میں جو ہوا وہ پیپر لیک نہیں، بلکہ پیپر کی لوٹ تھی۔ انہوں نے کہا، "میں طلباء سے کہنا چاہتا ہوں کہ جھارکھنڈ میں جو کچھ بھی سامنے آیا ہے اس نے کانگریس کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔ اس موضوع پر راہل گاندھی کی خاموشی جھارکھنڈ سمیت ملک بھر کے امیدواروں کو چبھ رہی ہے۔”
خواتین کو بااختیاربنانے کے معاملے پر کانگریس اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر حملہ بولتے ہوئے بی جے پی ترجمان نے کہا کہ کانگریس پارٹی چار ریاستوں میں اقتدار میں ہے اور ان چار ریاستوں کی کابینہ میں مجموعی طور پر صرف تین خواتین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے زیر اقتدار ہماچل پردیش اور کرناٹک کی کابینہ میں ایک بھی خاتون نہیں ہے۔ تلنگانہ میں دو خواتین وزیر تھیں، جن میں سے ایک کو ہٹا دیا گیا۔ جبکہ کیرالہ کی کابینہ میں صرف دو خواتین شامل ہیں۔ یہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے معاملے میں کانگریس کی اصلیت کو دکھاتا ہے۔ سدھانشو ترویدی نے کہا، "چار حکومتیں اور صرف تین خاتون وزراء، یہ بہت بڑی ناانصافی ہے، لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے کہ اس ناانصافی پر راہل گاندھی خاموش ہیں اور کانگریس صدرملکارجن کھرگے خاموش ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ من، بچن اور کرم تینوں سطحوں پر سیاست میں خواتین کو نمائندگی دینے کے مخالف ہیں۔ اس لیے، وہ جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ خاتون وزراء ہیں۔ انہوں نے نریندر مودی کو خواتین کے مفادات سے جڑے امور پر بھروسے کی علامت بتاتے ہوئے راہل گاندھی کو اس موضوع پر بھروسے کا بحران قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کہتی ہیں کہ ‘لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں’، 50 فیصد ٹکٹ دے سکتی ہوں، لیکن چار ریاستوں میں صرف تین خاتون وزراء کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہیں۔ اس لیے میں ملک کی تمام خواتین سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ سبھی کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کانگریس کا اصلی چہرہ کیا ہے۔”





