تہران، 3 ستمبر (یو این آئی): ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے انتہائی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک صحافتی انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت ایرانی نظام کی تبدیلی کے لیے کام کررہی ہے اور اسرائیل کی مختلف ایجنسیاں اس مقصد کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوگا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم فریم پیش نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر حملہ کرنے کا فیصلہ تہران کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کو یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے حوالے سے اسے تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ جب تک وہ امریکہ کے صدر ہیں، اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی موجودہ ترجیح جنگ کو مزید وسیع ہونے سے روکنا اور ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی حملوں کے خطرے کو محدود کرنا ہے۔ تاہم اسرائیلی چینل 13 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام کو ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام ملا ہے کہ تہران فی الحال کشیدگی کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، جس کے باعث سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہوگئی ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب حالیہ دنوں امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں مزید فوجی کارروائی کی تو واشنگٹن کی جانب سے زیادہ بڑے پیمانے پر فوجی ردعمل دیا جاسکتا ہے۔ تازہ بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال بدستور غیر یقینی اور کشیدہ ہے۔







