پولیس نے چار خاندان محفوظ مقامات پر منتقل، جی ایس آئی کی ٹیم طلب
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶ جون
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے منجکوٹ علاقے کے گاؤں کوٹلی کلاں میں زمین میں پڑنے والی پراسرار اور گہری دراڑوں نے متعدد مکانات، دکانوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے چار خاندانوں کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
مقامی باشندوں کے مطابق دراڑیں ہفتے کے روز نمودار ہوئیں اور ابتدا میں ان کا حجم معمولی تھا، تاہم صرف۲۴ گھنٹوں کے اندر یہ دراڑیں غیر معمولی طور پر چوڑی اور گہری ہو گئیں۔
ڈپٹی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما نے ایس ایس پی گورو شیکھروار اور دیگر افسران کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چار خاندانوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ صورتحال کا سائنسی جائزہ لینے کے لیے جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) سے ماہرین کی ٹیم طلب کی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک سرکاری اسکول اور مقامی پنچایت گھر کو بھی تیار رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید متاثرہ افراد کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گاؤں میں تقریباً تین درجن مکانات موجود ہیں جن میں سے بیشتر ابھی تک محفوظ ہیں۔ ابتدائی جائزے کے مطابق یہ زمین دھنسنے (لینڈ سبسائیڈنس) کا معاملہ نہیں بلکہ زمین میں دراڑیں پڑنے کا واقعہ ہے۔
مقامی افراد کے مطابق کم از کم چھ رہائشی مکانات اور چند دکانوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، جبکہ دو مکانات اور دو مویشی خانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گاؤں کو ملانے والی رابطہ سڑک اور متعدد زرعی کھیت بھی مختلف مقامات پر متاثر ہوئے ہیں۔
گاؤں کے رہائشی ابرار احمد، جن کے نئے تعمیر شدہ مکان میں بھی دراڑیں پڑی ہیں، نے بتایا کہ بعض دراڑیں اتنی چوڑی ہیں کہ ان میں دو افراد بیک وقت کھڑے ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) نے کہا ہے کہ دراڑوں کی اصل وجہ ماہرین کی ارضیاتی تحقیق کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ تاہم ادارے نے تسلیم کیا کہ علاقے کی ارضیاتی ساخت کمزور ہے۔
واضح رہے کہ بی آر او اس وقت قومی شاہراہ۱۴۴ -اے کی توسیع اور ازسرِ نو صف بندی کا کام کر رہا ہے۔ موجودہ شاہراہ گاؤں سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ہے، لیکن نئی صف بندی کے بعد یہ آبادی سے تقریباً۱۰۰ میٹر کے فاصلے تک آ جائے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی راجوری کے خواص علاقے کی بدھال-بی پنچایت میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ اور زمین دھنسنے کے باعث متعدد مکانات متاثر ہوئے تھے اور کئی خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ اسی ماہ ضلع پونچھ کے منڈھر علاقے کے کلاں بان میں بھی زمین دھنسنے سے اسکولوں، مسجد، قبرستان اور سڑک کو نقصان پہنچا تھا۔
انتظامیہ نے متاثرہ علاقے کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے اور ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔










