ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۶ جون
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کو امرتسر میں لشکرِ طیبہ کے ایک مبینہ کارندے سے متعلق جائیداد ضبط کر لی۔ یہ کارروائی ایک بین الاقوامی نارکو ٹیرر نیٹ ورک کیس کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی، جس کے روابط متعدد ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
این آئی اے کے مطابق ضبط کی گئی جائیداد امرتسر کے ہولی سٹی، ہولی انکلیو فیز،اول میں واقع ایک رہائشی مکان ہے، جسے ’’دہشت گردی سے حاصل شدہ آمدنی‘‘ قرار دیتے ہوئے ضبط کیا گیا۔
ایجنسی کی ایک ٹیم نے مقامی انتظامیہ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضبطی کی کارروائی انجام دی۔
این آئی اے کے مطابق یہ مکان ملزم انکش کپور کے والد کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ انکش کپور کو اس بین الاقوامی نارکو ٹیرر نیٹ ورک کا بھارت میں اہم کارندہ قرار دیا گیا ہے، جس کے روابط اٹلی، آسٹریلیا، ایران، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور پاکستان سمیت کئی ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران انکش کپور کے دبئی میں مقیم ایک ملزم کے ساتھ روابط سامنے آئے، جو پاکستان میں قائم کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے منسلک بتایا جاتا ہے۔
این آئی اے کے مطابق گزشتہ برس گرفتار کیے گئے انکش کپور کا کردار منشیات کی اسمگلنگ، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے علاوہ دہشت گردی سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف ممالک میں موجود ملزمان تک پہنچانے میں بھی اہم تھا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم ایک پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
این آئی اے پہلے ہی انکش کپور کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت، مجرمانہ سازش، غیر قانونی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی معاونت، این ڈی پی ایس ایکٹ اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت فرد جرم عائد کر چکی ہے۔
ایجنسی کے مطابق اب تک اس مقدمے میں۲۶ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی جا چکی ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہے۔
این آئی اے نے کہا کہ تازہ کارروائی ملک میں دہشت گردی کی معاونت کرنے والے مالی اور لاجسٹک ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔










