وشاکھاپٹنم، 5 دسمبر (یو این آئی) ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ون ڈے سیریز کا فیصلہ کن میچ ہفتہ کو وشاکھاپٹنم میں کھیلا جائے گا۔ رانچی میں قریبی جیت کے بعد ہندستانی ٹیم کو رائے پور میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جنوبی افریقہ نے 359 رنز کا ہدف چار گیندیں پہلے ہی حاصل کر لیا تھا۔
ان دونوں میچوں سے ہندوستانی ٹیم کے لیے ایک بڑا سبق یہ ہے کہ ان کا گیندبازی اٹیک دونوں موقعوں پر کمزور ثابت ہوا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں میچوں میں ٹاس ہارنے کے بعد ہندوستانی گیند بازوں کو اوس کے وقت دوسری اننگ میں گیند بازی کرنی پڑی تھی۔ اس میچ میں سب کی نظریں ایک بار پھر ہندستان کی گیندبازی پر ہوں گی۔ مزید یہ کہ ٹیم کا مڈل آرڈر بھی اب تک تنقید کا نشانہ رہا ہے۔
اس سیریز کے پہلے دو میچوں میں بلے بازی مسلسل آسان رہی ہے اورکافی رن بنے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ کن میچ کے لیے پچ کیسی ہو گی۔ تاہم ہندستان کو ابھی بھی کچھ چیزوں پر کام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طور پر، ہندوستان کا تیز گیند بازی اٹیک اتنا خوفناک نہیں لگتا جتنا کہ جسپریت بمراہ کی موجودگی میں ہوا کرتا ہے۔ ہرشت رانا نے پہلے میچ میں اچھی گیند بازی کی تھی اور دوسرے میں بھی ان کی گیندبازی بہتر تھی۔ تاہم، پرسدھ کرشنا نے ٹیم کو وہ فائدہ نہیں دلاسکے ہیں، جن کی ان سے توقع تھی۔ ارشدیپ اور ہرشت کی جوڑی کا برقرار رہنا یقینی ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ تیسرے تیز گیند باز کے طور پر پرسدھ کی جگہ نتیش ریڈی کو موقع ملے۔
مزید برآں، واشنگٹن سندر کا مڈل آرڈر میں جس طرح استعمال کیا جارہا ہے، اس کا فائدہ بھی ہندستان کو نہیں مل رہا ہے۔ ہندستان کے پاس بنچ پر نتیش ریڈی کے طورپر ایک آل راؤنڈر ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ تیسرے تیز گیند باز کے طور پر کتنی اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس صورت حال میں ہندستان پسدھ کے بارے میں سوچے گا بھی تو اسے کافی مشکل ہوگی۔ تلک ورما بنچ پر ہیں اور انہیں لاکر مڈل آرڈر کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ جنوبی افریقہ اپنے وننگ الیون میں کوئی تبدیلی تو نہیں کرنا چاہے گا، انہیں مجبوری میں ایسا کرنا پڑسکتا ہے۔
ناندرے برگر پچھلے میچ میں ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے تھے اور اپنا کوٹہ پورا نہیں کر پائے تھے۔ تاہم، جب رن کا تعاقب تناؤ کا شکار ہو گیا تو وہ بیٹنگ کے لیے تیار نظر آئے۔ تاہم اس میچ میں فٹ ہونا اور پورے 10 اوورز کی گیند بازی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ایسی حالت جنوبی افریقہ کو یہ ایک تبدیلی کرنی پڑ سکتی ہے۔ بلے باز ٹونی ڈی زورزی بھی ہیمسٹرنگ کی پریشانی کی وجہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کی فٹنس بھی ٹیم کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
ان کھلاڑیوں پر نظریں ہوں گی۔
یشسوی جیسوال نے ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے، لیکن وہ ابھی بھی محدود اوورز کی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ شبمن گل کی انجری کے باعث انہیں ون ڈے سیریز میں اننگ کا آغاز کرنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم، وہ پہلے دو میچوں میں بڑا اسکور نہیں کر سکے۔ توقع ہے کہ انہیں تیسرے میچ میں بھی موقع ملے گا، کیونکہ رتوراج گائیکواڈ نے چوتھے نمبر پر موقع ملنے کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ جیسوال کو اس میچ میں بڑا اسکور کرنا ہوگا ورنہ وہ ون ڈے ٹیم میں اپنی جگہ کھو سکتے ہیں۔
ایڈن مارکرم کی سنچری نے ہی دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کی فتح کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ آل راؤنڈر کھلاڑی ہیں اور فیلڈنگ میں بھی پوری جان لگادیتے ہیں۔ وہ پوری کرشش کریں گے کہ دوسرے ایک روزہ میچ والے کی کارکردگی کو دہرائیں اور اپنی ٹیم کو ٹیسٹ کے بعد ون ڈے میں بھی جیت کے قریب لے کر جائیں۔






