ڈھاکہ، 15 اکتوبر (یواین آئی ) بنگلہ دیش ون ڈے ٹیم کے کپتان مہدی حسن کا خیال ہے کہ ٹیم اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہی ہے اور وہ 50 اوور کے فارمیٹ میں اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ افغانستان نے بنگلہ دیش کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا، بنگلہ دیش کی بلے بازی کا دھڑن تختہ ہو گیا۔
مہدی نے کہا، "ہم ہر شکست سے سبق نہیں سیکھ رہے ہیں، ہم ضرورت کے مطابق بہتری لانے کے قابل نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کچھ شعبوں میں کمی ضرور ہے، لیکن ہمیں ان کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "ہمارے پاس ٹیم سے باہر زیادہ کھلاڑی نہیں ہیں۔ ہم اتنے برے نہیں ہیں جتنے یہ نتائج بتاتے ہیں، لیکن ہمیں صرف اپنی غلطیوں کو بہتر کرنا اور درست کرنا ہے۔
بنگلہ دیش افغانستان کے خلاف اپنے آخری دو میچوں میں 30 اوورز سے زیادہ بیٹنگ کرنے میں ناکام رہا، دوسرے میچ میں 28.3 اوورز میں 109 رنز بنائے اور پھر سیریز کے آخری میچ میں 27.1 اوورز میں 93 رنز پر ڈھیر ہو گئے۔
مہدی کو لگتا ہے کہ اب ان کی پہلی ترجیح پورے 50 اوورز تک بیٹنگ کرنا ہے۔ مہدی نے کہا کہ ہمیں 50 اوورز کھیلنے کا ہدف بنانا ہے۔
انہوں نے کہا،ہم گزشتہ دو میچوں میں ایسا کرنے میں ناکام رہے (50 اوورز تک بیٹنگ کرنے کے لیے) اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بیٹنگ یونٹ کے طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ ہم نے خراب کرکٹ کھیلی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جب بلے باز ذمہ داری نہیں لیتے تو ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے، ہر بلے باز کو ذمہ داری قبول کرنی ہوگی، ورنہ ہم جدوجہد جاری رکھیں گے، ہم رنز بنائے بغیر میچ نہیں جیت سکتے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔
سیریز میں شکست کی ذمہ داری لینے والے مہدی نے کہا کہ ٹیم کو اب جلد از جلد فارم میں واپس آنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ ویسٹ انڈیز سیریز سے قبل اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے سے کچھ راحت ملے گی۔
"یہ سیریز ہارنے کے بعد ٹیم یقینی طور پر مایوس ہے، ہمیں امید ہے کہ اگر ہم گھر پر باقی دو دن اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں تو ہم تازہ دم کھیل سکیں گے۔”
مہدی نے کہا کہ "اچھی کرکٹ نہ کھیلنے کی ذمہ داری ہر کھلاڑی کو لینا ہوگی۔ بطور کپتان مجھے بھی یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ ہم اگلی سیریز میں باؤنس بیک کریں گے۔




