لاہور 6 اکتوبر(یو این آئی ) سابق پاکستانی لیگ سپنر دنیش کنیریا نے ہندوستانی شہریت لینے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ 44 سالہ دنیش کنیریا نے کہا کہ پاکستان ان کی “جنم بھومی” ہے جبکہ ہندوستان ان کی ’’ماتر بھومی‘‘ اور آبا و اجداد کی سرزمین ہے، جو ان کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ان کا ہندوستانی شہریت لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کبھی شہریت کے حوالے سے فیصلہ کیا بھی جاتا ہے تو ہندوستان کا شہریت ترمیمی ایکٹ اس کے لیے راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے حوالے سے ان کے مثبت تبصرے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ذاتی رائے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ دنیش کنیریا نے اپنی کرکٹ کیریئر کے دوران میدان کے باہر پیش آنیوالے چیلنجزکا انکشاف کیا ہے۔ سابق لیگ اسپنر نے بتایا کہ اگرچہ انہیں پاکستانی عوام کی جانب سے بھرپور محبت اور حمایت حاصل رہی لیکن وہ پاکستانی حکام اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی طرف سے شدید امتیازی سلوک کا بھی شکار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی تعریف کے ساتھ ساتھ ایسے مواقع بھی آئے جب ان پرزبردستی دباؤ ڈالے گئے جس سے ان کا کرکٹ کے ساتھ سفرمزید مشکل ہو گیا۔




