نئی دہلی، 22 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی حکومت نے گاڑیوں کی حفاظت کے لیے نئے ضوابط جاری کیے ہیں۔
ان ضوابط کے تحت یکم اکتوبر 2027 سے ایم 1 زمرے کی مسافر گاڑیوں میں اینٹی تھیفٹ اموبلائزر لگانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹکر سے تحفظ، پیدل چلنے والوں کی حفاظت اور ایونٹ ڈیٹا ریکارڈر کے معیارات کو مزید بہتر بنانے کے لیے 2032 تک مرحلہ وار نفاذ کی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے 21 اکتوبر کو ہندوستان کے گزٹ میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 اور مرکزی موٹر وہیکل ضابطہ 1989′ کے تحت گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق تکنیکی معیارات میں ترمیم کی ہے۔
ترمیم شدہ ضابطہ کے مطابق، یکم اکتوبر 2027 سے ایم 1 زمرے کی مسافر گاڑیوں میں آٹوموٹیو انڈسٹری اسٹینڈرڈ اے آئی ایس-076 کے تحت اموبلائزر لگانا ضروری ہوگا۔ یہ ایک الیکٹرانک حفاظتی نظام ہے، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ کوئی بھی غیر مجاز شخص گاڑی اسٹارٹ نہ کر سکے۔
نوٹیفکیشن میں سامنے اور اطراف سے ہونے والی ٹکر کے دوران مسافروں کی حفاظت کے لیے مزید سخت ضوابط بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ نئے ماڈلز کے لیے ان ضوابط کے نفاذ کی تاریخ یکم اکتوبر 2027، جبکہ دیگر تمام متعلقہ ماڈلز کے لیے یکم اکتوبر 2028 مقرر کی گئی ہے۔
ترمیم شدہ آف سیٹ فرنٹل کولیژن اسٹینڈرڈ (اے آئی ایس-098 نظرثانی 1) اور سائیڈ امپیکٹ پروٹیکشن اسٹینڈرڈ (اے آئی ایس-099، نظرثانی 1) مقررہ نظام الاوقات کے مطابق پرانے معیارات کی جگہ لیں گے۔
وزارت نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے اے آئی ایس-100 (ترمیم 1) کے تحت پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط متعارف کرائے ہیں، جو یکم اکتوبر 2028 سے گاڑیوں کے نئے ماڈلز پر نافذ ہوں گے۔
یہ نوٹیفکیشن وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے ایڈیشنل سکریٹری محمود احمد نے جاری کیا ہے۔





