ہم دہشت گردی کے معاملے پر امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اپنے خدشات کو سمجھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہتے:جے شنکر
سرینگر؍۲۲؍اکتوبر
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے معاملے پر امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اپنے خدشات کو سمجھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا عزم ہونا چاہیے۔
جمعرات کو این ڈی ٹی وی ورلڈ سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کسی ملک کی کارروائی کو اسی وقت سنجیدگی سے لیتی ہے جب وہ خود ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، بھارت نے آپریشن سندور اور بالاکوٹ حملوں کے ذریعے ایسا کیا ہے۔
جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر واشنگٹن کی جانب سے بھارت کے خدشات کو پوری طرح نہ سمجھنے کے تاثر اور اس کے بھارت۔امریکہ تعلقات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں جے شنکر نے کہا کہ یہ معاملہ محض واشنگٹن کی سمجھ بوجھ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کہیں وسیع ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’یہ معاملہ صرف اس بات کا نہیں ہے کہ واشنگٹن سمجھتا ہے یا نہیں۔ اگر واشنگٹن اس معاملے کو اتنی اچھی طرح سمجھتا تھا تو۲۰۰۸میں ممبئی حملوں، یعنی۲۶/۱۱ کے بعد کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اور جب ہم نے کارروائی کی تو اس لیے نہیں کہ واشنگٹن نے ہمارے خدشات کو سمجھ لیا تھا، بلکہ اس لیے کہ ہم نے خود اس معاملے کو سمجھا۔‘‘
وزیر خارجہ نے مزید کہا، ’’سب سے پہلے یہ توقع چھوڑ دیجیے کہ کوئی دوسرا دہشت گردی کے معاملے کو درست طور پر سمجھے گا۔ خود اس معاملے کو سمجھیں۔ اگر آپ کے پاس واضح سوچ اور دہشت گردی کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا عزم نہیں ہے تو یہ توقع نہ رکھیں کہ کوئی دوسرا آپ کی جگہ یہ کام کرے گا۔‘‘
جے شنکر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ سال آپریشن سندور۲۰۱۹ میں بالاکوٹ حملوں اور۲۰۱۶میں سرجیکل اسٹرائیکس کے ذریعے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی اسی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر خارجہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے دوہرا معیار اپناتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب ’’بالکل واضح‘‘ ہے۔
یہ سوال فرانس میں حالیہ بڑے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پر اقوام متحدہ کی مذمت اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دینے، جبکہ بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور آزاد ماہرین کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کے تناظر میں پوچھا گیا۔
جے شنکر نے کہا کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی نوعیت، اس کے مؤقف اور مختلف حالات میں اختیار کیے جانے والے رویے سے متعلق ایک وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا تبصرہ صرف بھارت، برصغیر یا فرانس تک محدود نہیں بلکہ مختلف ممالک اور معاشروں میں رونما ہونے والے واقعات سے متعلق ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے معاملات میں ایسے مواقع پر بیرونی حوصلہ افزائی اور بیرونی حمایت بھی شامل ہوتی ہے۔ کچھ عناصر اسے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اثرورسوخ کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنے والے بعض عناصر کھلے عام اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔‘‘
جے شنکر نے کہا کہ حکومتوں کو درپیش چیلنجوں کی وضاحت صرف کسی ایک ملک، انتظامیہ یا مخصوص تنازعے کی کارروائیوں سے نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق گزشتہ 15 برسوں کے دوران عالمی ماحول میں ہونے والی وسیع تبدیلیوں نے بین الاقوامی سیاست اور معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال صرف ریاستی عناصر، امریکہ یا محصولات تک محدود نہیں ہے۔ ان کے بقول، دنیا میں تبدیلیوں کے ساتھ کئی ممالک اور معاشروں میں نفسیاتی اور سماجی تناؤ بڑھا ہے۔ سرحدوں سے ماورا سیاست، ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور عالمی معیشت کے گہرے باہمی انضمام نے بیرونی مداخلت کے امکانات میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی بے چینی اور عدم استحکام کے عوامل مسلسل بڑھتے گئے ہیں۔
دریں اثنا، فرانس میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہفتے کے روز ہی کم از کم۲۴۰۰؍افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، سرکاری عمارتوں میں گھسنے اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے، جبکہ ایک تاریخی سٹی ہال بھی آگ کی لپیٹ میں آگیا۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









