نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس نے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای ) کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہونے کے پانچ ماہ بعد بھی ملزم کمپنی کوایم پی ٹی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ ہونے پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ سی بی ایس ای نے گزشتہ یکم جون کو کمپنی پر جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی تھی، لیکن اب تک نہ تو کوئی تادیبی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ سی بی ایس ای میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن سزا یا کارروائی کے نام پر اب تک کچھ بھی عمل میں نہیں آیا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ میڈیا کی ایک اہم رپورٹ کے مطابق کمپنی کے خلاف اب تک کوئی تادیبی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ او ایس ایم کی ٹینڈرنگ کے عمل سے کام پورا کرنے میں ناکام رہنے والے وینڈرز کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق شرط کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی مہینوں بعد کوایم پی ٹی کو 38 کروڑ روپے سے زائد کا ٹھیکہ سونپ دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ٹھیکہ دینے کے عمل میں شامل وزارتِ تعلیم اور سی بی ایس ای کے حکام کو ہی کمپنی کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری سونپے جانے سے ‘مفادات کے ٹکراؤ’ کا شدید خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ طلباء کی اتنی بڑی تحریک کے باوجود وزارتِ تعلیم میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور نئے وزیر بھی پچھلے نظام سے ورثے میں ملی کمپنیوں کی پردہ پوشی کر رہے ہیں اور انہیں بچا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ‘ووٹ چور، پیپر چور حکومت’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اقتدار سے باہر ہو جانا چاہئے۔








