نئی دہلی، 21 اکتوبر (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز وُمیدی ایتھراج کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
مسٹر مودی نے 1947 میں سابق وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو کو پیش کیے گئے تاریخی سینگول کی تیاری میں ایتھراج کی کاریگری اور ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں ان کی نمایاں خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے تعزیتی پیغام میں مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ایتھراج کی رحلت کی خبر سے انتہائی غمزدہ ہیں۔ مسٹر مودی نے ہندوستان کی قومی تاریخ میں اس سینگول کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا، "تمل ناڈو کے ایک ممتاز اور معزز خاندان سے تعلق رکھنے والے ایتھراج کو تاریخی ‘سینگول کی تیاری میں ان کی بے مثال کاریگری کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، یہی وہ سینگول تھا جو سابق وزیرِ اعظم نہرو کو تحفتاً پیش کیا گیا تھا۔”
مسٹر مودی نے سال 2023 میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں سینگول کو نصب کرنے کے اپنی حکومت کے تاریخی فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی ورثے کو ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے میں ایک نمایاں اور وقار والا مقام دینا انتہائی فخر اور اعزاز کی بات تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد 2023 میں ہماری حکومت ہی کو نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں سینگول کو یہ باوقار مقام عطا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
سینگول کی تنصیب کے دوران ایتھراج سے ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے ملک اور اس کی عظیم ثقافتی روایتوں میں معمار اور کاریگر ایتھراج کے تعاون کے لیے ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "اس موقع پر مجھے تھرو وُمیدی ایتھراج جی سے ملنے اور ہمارے ملک و تہذیب کے لیے ان کے کیے گئے عظیم کاموں کے لیے اظہارِ تشکر کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔”
ایتھراج کے ورثے کو ہندوستان کی تہذیبی روایتوں اور اس کے قومی سفر کے درمیان ایک مضبوط کڑی قرار دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کا کام ہندوستان کی عظمت رفتہ کی روایتوں اور ہماری قومی ترقی کے درمیان ایک شاندار رابطہ قائم کرتا ہے۔ انہوں نے ایتھراج کے سوگوار خاندان اور ان کے عقیدت مندوں و مداحوں سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے "اوم شانتی” کا پیغام دیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ‘سینگول’ اقتدار کی منتقلی اور حکمرانی کی اعلیٰ روایتوں سے جڑا ہوا ایک رسمی شاہی عصا ہے، جسے مئی 2023 میں نئی پارلیمنٹ عمارت کے ایوانِ زیریں لوک سبھا میں اسپیکر کی نشست کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس تنصیب کو ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور اس عصا کی تاریخی علامت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا۔
سال 1947 میں برطانوی حکومت کی جانب سے ہندوستان کو اقتدار کی منتقلی کے وقت سینگول کا کردار خاصا بحث میں آیا تھا، جب یہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نہرو کے سپرد کیا گیا تھا۔ سال 2023 میں پارلیمنٹ میں اس کی تنصیب نے اس تاریخی شاہکار کو ایک بار پھر قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، کیونکہ حکومت نے اسے ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا جوہندوستان کی تاریخی روایتوں کو اس کے جمہوری اداروں سے جوڑتی ہے۔








