تہران/واشنگٹن، 21 اکتوبر (یو این آئی) ایران نے بدھ کو خبردار کیا کہ اس کے خلاف کسی بھی فوجی حملے کا جواب مساوی یا اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔ دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کو انتہائی مشکل قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز، بحری سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
روبیو نے تہران کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے میں درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تک اقتصادی دباؤ جاری رکھے گا، جب تک ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس اہم بحری راستے سے محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جائے اور ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے۔
دوسری جانب، ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی کارروائی کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ اس دھمکی سے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد تیل کے دو ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
آئی آر جی سی کے سرکاری خبر رساں ادارے سپاہ نیوز کے مطابق، ان جہازوں نے اس اہم بحری گزرگاہ سے ایسے راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کی تھی جسے تہران نےغیر قانونی قرار دیا ہے۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ بحری راستے پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، جن میں ان کے اثاثوں کی تباہی بھی شامل ہے۔ تاہم، اس واقعے سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس نے کہا کہ ایرانی فورسز اس بحری گزرگاہ کی نگرانی جاری رکھیں گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اپنے خلاف کسی بھی فوجی حملے کو جواب دیے بغیر نہیں جانے دے گا۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بقائی نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی سے گریز کرسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حملہ کرو اور فرار ہوجاؤ کا دور ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بھی مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک مقام ‘پکیکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس سے قبل اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کی کوششوں کے تحت اس مقام کو نشانہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن مزید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔تاہم، تہران کا اصرار ہے کہ اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کا مرکز تیزی سے آبنائے ہرمز بنتی جارہی ہے۔ یہ ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران نے حملوں کی دھمکیوں کے درمیان اس آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بڑی حد تک روک دی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور ایران کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتا، اس وقت تک یہ بحری راستہ دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور نقصانات کا معاوضہ شامل ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ تاہم، بحری سلامتی، فوجی کارروائیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
امریکہ کی جانب سے دباؤ برقرار رکھنے اور ایران کی مزید حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کی وارننگ کے باعث آبنائے ہرمز علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک اہم فلیش پوائنٹ بنی ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کے سبب مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات فی الحال غیر یقینی ہیں۔








