کرائسٹ چرچ، 21 اکتوبر (یواین آئی) تقریباً چار سال کے طویل وقفے کے بعد بھونیشور کمار نے بنگلورو میں ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصلہ کن ٹی20 میچ میں ہندوستانی ٹیم میں واپسی کی۔ بارش کے باعث میچ منسوخ ہونے کی وجہ سے انہیں گیندبازی کا موقع نہیں ملا، لیکن 37 سال کے ہونے سے چند ماہ قبل بھی تجربہ کار تیز گیندباز نے سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب برقرار رکھی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں ارشدیپ سنگھ کے زخمی ہونے کی وجہ سے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ٹی20 سیریز سے ہندوستانی ٹیم کے مستقبل کے منصوبوں میں بھی بھونیشور کی جگہ برقرار ہے۔ ٹی20 کپتان شریئس ایئر کے مطابق بھونیشور جانتے ہیں کہ اس فارمیٹ میں دبدبہ قائم کرنے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے۔
ایئر نے پہلے ٹی20 سے قبل کہا، بھونیشور ٹیم میں کافی تجربہ لے کر آتے ہیں۔ آئی پی ایل کے بعد ہمیں اس کی کچھ کمی محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ ہمارے پاس کئی نئے گیندباز تھے۔ اگر آپ ٹی20 میں ان کے کیریئر کو دیکھیں تو انہوں نے گزشتہ دو سال میں آئی پی ایل جیتا ہے۔ اس لیے انہیں بخوبی معلوم ہے کہ اس فارمیٹ میں کیسے دبدبہ قائم کیا جاتا ہے۔
2022 میں قومی ٹیم کے لیے آخری بار کھیلنے کے بعد سے نو نئے تیز گیندباز ٹی20 بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کر چکے ہیں۔ ارشدیپ سنگھ اور جسپریت بمراہ پہلی پسند ہیں، جبکہ مضبوط ٹیم میں تیسرے تیز گیندباز کی جگہ کے لیے مقابلہ ہے۔ ایئر کا ماننا ہے کہ بھونیشور کی واپسی سے انتخاب کی مشکل ضرور بڑھے گی، لیکن یہ ایک خوش آئند الجھن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے موجودہ کھلاڑیوں کو مسلسل اچھی کارکردگی پیش کرنے کی ترغیب ملے گی، کیونکہ ٹیم کا آخری مقصد میچ جیتنا ہے۔
نیوزی لینڈ میں حالات تیز گیندبازوں، خصوصاً سوئنگ گیندبازوں کے لیے سازگار ہونے کی توقع ہے، تاہم ایئر نے پہلے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنے کے بجائے حالات کے مطابق خود کو جلد ڈھالنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پچ اور حالات کسی بھی دن تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے ٹیم جلد از جلد ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرے گی اور اچھے پریکٹس سیشن سے کھلاڑیوں کو اپنی حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔
ایئر نے نوجوان بلے باز ویشو سوریہ ونشی کو بار بار پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 سالہ کھلاڑی کو ڈریسنگ روم میں خوش رکھنا ضروری ہے اور اسے مستقبل میں مزید مواقع ملیں گے۔ ایئر کے مطابق ہندوستان کے اوپنرز مسلسل رنز بنا رہے ہیں اور ورلڈ کپ بھی جیت چکے ہیں، اس لیے محض ٹیم میں شامل ہوتے ہی سوریہ ونشی کے لیے جگہ بنانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کھیلنے سے سوریہ ونشی کو مختلف پچوں اور حالات کو سمجھنے کا موقع ملے گا اور آئندہ جب وہ ایسے حالات میں آئیں گے تو زیادہ بہتر طور پر تیار ہوں گے۔ اس کے ساتھ وہ پہلی بار بیرون ملک کھیلنے والے دیگر نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی بھی کر سکیں گے۔



