سرینگر؍۲۱؍اکتوبر
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُوڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے اہلِ خانہ نے روس میں مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد اس کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے حکومتِ ہند سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
نوجوان کی شناخت اعجاز احمد گیلانی ولد ناظم شاہ گیلانی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ اُوڑی کے شیاد پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
ایک مقامی خبر کے مطابق، اہلِ خانہ نے بتایا کہ اعجاز روزگار کی تلاش میں روس گئے تھے اور وہاں کام شروع کیے انہیں ابھی بمشکل۲۰دن ہی ہوئے تھے کہ مبینہ طور پر۱۳ ستمبر کو ایک مقدمے کے سلسلے میں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
اہلِ خانہ نے مقدمے کی نوعیت یا ان کی حراست کے حالات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
خاندان کے مطابق، اعجاز گھر کے واحد کفیل اور دو بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ ان کی مبینہ حراست کے باعث اہلِ خانہ شدید پریشانی اور ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ ان کی والدہ، اہلیہ، بہنیں اور بچے بے چینی سے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔
خاندان نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور روسی حکام کے ساتھ رابطہ کرکے اعجاز کی بحفاظت بھارت واپسی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
اہلِ خانہ نے حکام سے فوری مدد کی درخواست کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سفارتی سطح پر مداخلت کے ذریعے اعجاز کو بحفاظت وطن واپس لانے میں مدد ملے گی۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )










