سرینگر؍۲۱؍اکتوبر
جموں و کشمیر میں احتجاج کرنے والے طبی انٹرنز کے ساتھ جاری تعطل کو ختم کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے ان کا ماہانہ وظیفہ۱۲ہزار ۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۲۵ہزار روپے کر دیا ہے۔
وظیفے میں اضافہ طبی انٹرنز کی جانب سے۳۰ہزار روپے ماہانہ وظیفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیے گئے احتجاج کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔
محکمہ صحت و طبی تعلیم کے کمشنر/سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے، ’’جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز، بشمول بیرون ملک سے طبی تعلیم حاصل کرنے والے فارغ التحصیل طلبہ (ایف ایم جیز)، کو ادا کیے جانے والے ماہانہ وظیفے کو۱۲ہزار۳۰۰روپے سے بڑھا کر۲۵ہزار روپے کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم اکتوبر۲۰۲۶ سے ہوگا۔‘‘
جموں و کشمیر میں طبی انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر اس سے قبل ستمبر میں بھی ہڑتال کی تھی۔
۸ ستمبر کو حکومت نے انٹرنز سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت طلب کی تھی۔
تاہم، منگل کے روز انٹرنز نے دوبارہ ہڑتال شروع کر دی اور کہا کہ مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود حکومت نے اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ (ایجنسیاں )










