مقبوضہ بیت المقدس، 19 اکتوبر (یو این آئی) اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے اختتام پر یہودی آبادکاروں کے پرتشدد حملوں کے سلسلے میں 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان حملوں میں ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ اور یورپی سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی پولیس نے پیر کو بتایا کہ مشتبہ افراد کو پیر کی صبح حراست میں لیا گیا۔ ان پر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے، فوج کی جانب سے ممنوعہ قرار دیے گئے علاقے سے متعلق احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قانونی تعمیرات کے شبہات ہیں۔
پولیس نے گرفتار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق تمام مشتبہ افراد اسرائیلی شہری ہیں۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی سالانہ زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران یہودی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے تشدد پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ نے ان کارروائیوں کو نسلی قرار دیتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں گرفتاریوں کو ایک ”بہت مثبت پیش رفت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر شدید حملہ کرنے اور انہیں بری طرح زدوکوب کرنے والوں کو تلاش کرنے اور سزا دلانے میں مدد ملے گی۔
ہیڈی لیوائن کو جمعہ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں ابو فلاح میں مرد یہودی آبادکاروں کے ایک گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ان کی کئی پسلیاں اور ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ٹوٹ گئے تھے۔
ان کی ایک انگلی، جو تقریباً کٹ گئی تھی، کی سرجری بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ ان کے جسم کے نچلے حصے پر چاقو کے وار سے لگنے والے معلوم ہونے والے زخموں پر ٹانکے لگائے گئے۔ وہ اب ان زخموں سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔
اس واقعے کے ایک روز بعد نقاب پوش آبادکاروں نے عیسائی اکثریتی گاؤں طیبیہ کا دورہ کرنے والے یورپی سفارت کاروں پر حملہ کیا۔ حملے کا نشانہ بننے والے سفارت کاروں کے ممالک فرانس، بیلجیم اور پولینڈ نے بھی اسرائیل سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر اور فوج نے سفارت کاروں پر حملے کا الزام ”اسرائیلی بلوائیوں” پر عائد کیا ہے۔
تاہم وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاملے پر محتاط اور مبہم مؤقف اختیار کیا۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے مذہبی اتحاد کی اکثریت ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ سفارت کاروں نے فوج کے ساتھ رابطہ کیے بغیر ایسے ”حساس علاقے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں ماضی میں بھی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔” انہوں نے ابو فلاح میں ہیڈی لیوائن پر حملے کے بارے میں بھی کہا کہ اس واقعے کے حقائق ”واضح نہیں ہیں۔”
لیوائن نے نیتن یاہو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے تبصرے سے ”حیران اور دل برداشتہ” ہوئی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ برسوں کے دوران یہودی آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں پر روزانہ ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کو شاذ و نادر ہی گرفتار کیا جاتا ہے یا سزا دی جاتی ہے۔






