پیرس، 19 اکتوبر (یو این آئی) فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بڑھتے ہوئے اخراجات، تعلیمی شعبے کے لیے فنڈز کی کمی اور عوامی خدمات کی ابتر ہوتی صورت حال کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور پرتشدد واقعات کے بعد عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ایلیسی پیلس سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے میکرون نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ صورت حال کو مزید خراب نہ کریں۔ انہوں نے کہا، ہم سب غصے اور شرمندگی کا احساس کرتے ہیں۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مظاہرین کے جائز مطالبات اور توڑ پھوڑ و لوٹ مار میں ملوث افراد کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے روز فرانس بھر میں 5 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے۔ بیشتر مقامات پر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم رات ہوتے ہی کئی شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے آخر میں پولیس نے 2 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا، جبکہ وزارت داخلہ کے حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد تقریباً 2,400 بتائی گئی ہے۔
نقاب پوش گروہوں نے پیرس، مارسی، لیون اور لیموج میں دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، گاڑیوں کو آگ لگائی اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ لیموج میں آتش زدگی کے نتیجے میں 143 سال پرانے سٹی ہال کا مینار منہدم ہو گیا۔ اتوار کو پیرس کے بعض علاقوں میں جھڑپوں کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
میکرون نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی چیز اس طرح کی تباہی کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ صدر نے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور کرنے کی غرض سے رواں ہفتے اجلاس منعقد کرنے کا بھی وعدہ کیا۔
ان مظاہروں کا آغاز ستمبر میں پیرس کے مضافاتی علاقوں میں طلبہ اور اساتذہ کی ہڑتالوں سے ہوا تھا۔ مظاہرین اسکولوں میں عملے کی تعداد بڑھانے اور بہتر وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں، گنجائش سے زیادہ طلبہ والی جماعتوں، عملے کی کمی، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات سے متعلق خدشات کے باعث یہ تحریک ملک گیر شکل اختیار کر گئی۔
ایک ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد غصے میں مزید اضافہ ہوا، جس میں ایک پولیس اہلکار کو ایک لڑکی کی گردن پر ممنوعہ انداز میں گرفت بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے اور مظاہروں میں مزید افراد شریک ہو گئے۔
ان پرتشدد واقعات کے باعث میکرون حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا حکام مظاہروں کے پیمانے اور شدت کا بروقت اندازہ لگانے میں کامیاب رہے تھے۔ وزیر اعظم سیباستیاں لیکورنو سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے پیر کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔
سیاسی رہنماؤں نے صورت حال پر مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین نے بائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں پر عوامی غصے سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا، جبکہ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے طلبہ کے احتجاج کے حق کا دفاع کیا۔ مارسی کے حکام نے بھی مزید بدامنی کے خدشے کے پیش نظر اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاج پورے یورپ میں بڑھتے ہوئے اخراجات، رہائش کی قلت اور عوامی خدمات کے مسائل پر پائی جانے والی وسیع تر بے چینی کے درمیان ہو رہے ہیں۔ بیلجیم، پرتگال، اٹلی اور البانیہ میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں، جہاں معاشی اور سیاسی شکایات نے عوامی بے اطمینانی کو ہوا دی ہے۔
موجودہ صورت حال نے اس بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا فرانسیسی حکومت مظاہروں کے پیچھے کارفرما بنیادی معاشی اور سماجی مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و امان بحال کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔






