بیجنگ، 19 اکتوبر (یو این آئی) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث برآمدات میں تیزی کے درمیان چین کی معیشت نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
قومی ادارۂ شماریات کی جانب سے پیر کو جاری اعداد و شمار کے مطابق، جولائی سے ستمبر کے دوران چین کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شرح دوسری سہ ماہی میں درج 4.3 فیصد سے زیادہ رہی اور بیشتر تجزیہ کاروں کی پیش گوئیوں سے بھی بہتر ہے۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران چین کی جی ڈی پی میں سالانہ بنیاد پر 4.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت کی تیزی کے باعث چین کی ٹیکنالوجی سے متعلق برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم کمزور داخلی طلب اور جائیداد کے بحران نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔
چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی نے 2026 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.5 سے 5 فیصد مقرر کیا ہے۔ کووڈ-19 وبا کے دور کو چھوڑ کر یہ کئی دہائیوں میں ترقی کی نسبتاً سست رفتار میں شمار ہوگی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی برآمدات میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 23.19 کھرب یوآن (3.47 کھرب ڈالر) تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹرز اور دیگر ٹیکنالوجی سے متعلق مصنوعات کی مضبوط مانگ رہی۔
ملکی کھپت کے اہم پیمانے، خوردہ فروخت میں ستمبر کے دوران گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوری سے ستمبر تک اس میں 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مینوفیکچرنگ اور کان کنی جیسے شعبوں کی پیداوار کی عکاسی کرنے والی صنعتی پیداوار میں ستمبر کے دوران 5.5 فیصد اضافہ ہوا۔ اس طرح رواں سال کے پہلے نو ماہ میں صنعتی پیداوار کی شرح نمو 5.3 فیصد رہی۔
دوسری جانب، جائیداد، کارخانوں اور مشینری سمیت مستقل اثاثوں میں سرمایہ کاری گزشتہ ماہ محض 0.7 فیصد بڑھی، جبکہ جنوری سے ستمبر کے دوران اس میں 7.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف بزنس میں مالیات کے پروفیسر ژیگو ہی نے کہا کہ چین کی معیشت سرکاری ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، تاہم بیجنگ برآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار کے تسلسل کے حوالے سے محتاط رہے گا۔انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”میری توقع ہے کہ بیجنگ اپنی مطلوبہ 4.5 فیصد شرح نمو حاصل کر رہا ہے۔”
ان کے مطابق، ترقی کی رفتار میں بتدریج اور قابو میں رہنے والی سست روی ہی بیجنگ کے لیے بہترین ممکنہ صورت حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ جائیداد کا شعبہ اب بھی سکڑ رہا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کی بیجنگ توقع کر رہا تھا اور اسے مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔ چین کے گھرانے بھی اس صورت حال کے مطابق اپنی توقعات کو ڈھال رہے ہیں۔





