سرینگر؍۲۰؍اکتوبر
جموں و کشمیر میں لازمی انٹرن شپ کرنے والے میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کے لیے ایک اہم پیش رفت میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ماہانہ وظیفہ۱۲ہزار۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۲۵ہزار روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم کو اس سلسلے میں فوری طور پر ضروری احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اعلیٰ سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے وظیفے میں اضافے سے متعلق طویل عرصے سے زیرِ التوا فائل کو منظوری دے دی ہے، جس سے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کو ماہانہ ملنے والی رقم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع نے ایجنسی کو بتایا، ’’وزیر اعلیٰ نے ماہانہ وظیفہ۱۲۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۲۵۰۰۰ روپے کرنے سے متعلق فائل منظور کرلی ہے۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم کو فوری طور پر ضروری احکامات جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
ذرائع کے مطابق، باضابطہ حکم نامہ منگل کو ہی جاری کیے جانے کی توقع تھی، تاہم تعطیل کے باعث ایسا نہیں ہوسکا۔ اب محکمہ بدھ،۲۱؍اکتوبر کو ضروری نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ماہانہ وظیفے میں۱۲ہزار۷۰۰روپے کا اضافہ ہوگا، جو موجودہ رقم کے مقابلے میں تقریباً۱۰۳ء۲۵فیصد بنتا ہے۔
سالانہ بنیاد پر، نظرثانی شدہ وظیفہ۱۲ ماہ تک حاصل کرنے والے ایک انٹرن کو اب۳ لاکھ روپے ملیں گے، جبکہ پہلے یہ رقم ایک لاکھ۴۷ ہزار۶۰۰ روپے تھی۔ اس طرح سالانہ آمدنی میں ایک لاکھ۵۲ ہزار۴۰۰روپے کا اضافہ ہوگا۔
یہ فیصلہ جموں و کشمیر بھر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کے مسلسل احتجاج کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جو اپنے ماہانہ وظیفے کو بڑھا کر۳۰ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
انٹرنز نے۳۱؍اگست کو غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے باوجود تقریباً سات برس سے ان کے وظیفے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی، جبکہ انہیں اسپتالوں میں ڈیوٹیاں بھی انجام دینی پڑتی ہیں۔
دوسری جانب جموں و کشمیر میں احتجاج کرنے والے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت ماہانہ وظیفہ بڑھا کر۲۵ ہزار روپے کرنے کے فیصلے سے متعلق باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری نہیں کرتی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
یہ پیش رفت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے وظیفے میں اضافے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم، سرکاری حکم نامہ جاری نہ ہونے کے باعث اس تجویز کی موجودہ حیثیت واضح نہیں ہے۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایمسَا) کے صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے کہا کہ انٹرنز زبانی یقین دہانیوں یا اعلانات کو باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن کا متبادل تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے انٹرنز نے واضح کردیا ہے کہ نظرثانی شدہ وظیفے کی تصدیق کرنے والا تحریری حکم نامہ جاری ہونے تک ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
ایمسَا نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، ’’تحریری حکم نامہ نہیں تو احتجاج ختم نہیں ہوگا۔‘‘تنظیم نے واضح کیا کہ انٹرنز وظیفے کے معاملے پر حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر فیصلے سے آگاہ کیے جانے کے بعد ہی احتجاج ختم کرنے پر غور کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










