نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے عوامی صحت کے ساتھ کھلوواڑ اور غذائی تحفظ کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملات میں سخت موقف اپناتے ہوئے میسرز سوریہ فوڈ اینڈ ایگرو لمیٹڈ (پریا گولڈ بسکٹ)، میسرز ڈوڈلا ڈیری لمیٹڈ اور میسرز یو ای آئی آر آرگینک فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس کے علاوہ، ایف ایس ایس ایکٹ 2006 کے تحت قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے اتھارٹی نے نرپدھم فوڈز، سن رجیز ہیلتھ کیئررز اور میسرز شاہ کانتی لال جینتی لال کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے۔
صارف کی شکایت پر ایف ایس ایس اے آئی کی جانب سے میسرز سوریا فوڈ اینڈ ایگرو لمیٹڈ کے پلانٹ کے معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کمپنی اپنے مشہور ‘پریا گولڈ’ بسکٹ میں فائبر کے ذریعے کے طور پر انسانی استعمال کے لیے ناقابلِ استعمال اور مویشیوں کی خوراک کے لیے مقررہ چوکر کو خام مال کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔
پلانٹ میں ملنے والی بوریوں پر واضح طور پر مویشیوں کی خوراک سے جڑے ہونے کے نشانات پائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی احاطے میں کیڑوں پر قابو پانے ، خام مال کی ذخیرہ کرنے، دیکھ بھال اور ملازمین کی ذاتی صفائی ستھرائی میں شدید خامیاں پائی گئیں، جس کے باعث کمپنی کا لائسنس پہلے ہی معطل کر دیا گیا تھا۔
ایک اور کارروائی میں میسرز یو ای آئی آر آرگینک فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے فروخت کی جا رہی ‘پیلی کشمش (جو آرگینک پروڈکٹ کے طور پر فروخت کی جا رہی تھی) کے ریگولیٹری نمونے کو جانچ میں غیر محفوظ پایا گیا۔ فوڈ اینالسٹ اور ریفرل فوڈ لیبارٹری دونوں کی جانچ میں کشمش میں مقررہ قابلِ قبول حد سے کہیں زیادہ مقدار میں نقصان دہ کیڑے مار ادویات پائی گئیں۔ اس میں بنیادی طور پر تھیامیتھوکسام ، فلوئوپائیرام ، ایزوکسیسٹروبن ، امیڈاکلوپرڈ اور مائیکلوبوٹانل جیسے خطرناک پیسٹیسائڈز کے باقیات شامل تھے۔
اتھارٹی نے دودھ کی مصنوعات بنانے والی معروف کمپنی میسرز ڈوڈلا ڈیری لمیٹڈ (دودھ، دہی، گھی اور دیگر ڈیری مصنوعات) کے خلاف بھی غذائی تحفظ کے معیار کی سنگین خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی منظوری دی ہے۔
مزید برآں، غذا اور صحت کی مصنوعات کے زمرے سے وابستہ نرپدھم فوڈز، سن رجیز ہیلتھ کیئررز اور میسرز شاہ کانتی لال جینتی لال کو معیار اور تحفظ کے اصولوں کونظرانداز کرنے پر نوٹس جاری کر کے ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔








