واشنگٹن، 17 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس پر وسیع پیمانے پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اس قانون پر عمل درآمد مؤخر کردیا ہے، جس پر انہوں نے گزشتہ ماہ دستخط کیے تھے۔ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ پابندیوں کو مؤخر کرنا قومی مفاد میں ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے، جب کہ قانون کے تحت پابندیوں کے نفاذ کی مقررہ تاریخ میں صرف دو دن باقی تھے۔
یہ قانون ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے موسوم تھا، جن کا جولائی میں یوکرین سے واپسی کے بعد اچانک انتقال ہوگیا تھا۔ اس قانون کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں بھاری اکثریت سے منظوری حاصل ہوئی تھی۔ اسے گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔
قانون کا مقصد روسی عہدیداروں، بینکوں اور روسی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل کرنے والے ٹینکروں کے خفیہ بیڑے پر پابندیاں عائد کرکے یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کے مالی وسائل محدود کرنا تھا۔
اس میں ٹرمپ کو روسی تیل یا گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ تاہم، ان ممالک کو استثنا دینے کی گنجائش رکھی گئی تھی جو روس کی گیس برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اس درآمد میں کمی کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
پابندیوں کو مؤخر کرنے کا فیصلہ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے امریکہ نے روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔
ریپبلکن اور ڈیموکریٹک، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روس کی جنگی کوششوں کو تقویت ملے گی، جب کہ ایندھن کی قیمتوں پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
ڈیموکریٹک رکنِ ایوان نمائندگان ڈان بائر نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر ارکان نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ ٹرمپ ماسکو کے ساتھ ایسا معاہدہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خامی پر مبنی قانون میں ترمیم کرے، تاکہ ٹرمپ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے جھکنے سے روکا جاسکے اور یہ یقینی بنایا جاسکے کہ قانون یوکرین کی حقیقی معنوں میں حمایت کرے۔
دریں اثنا، ٹرمپ حالیہ دنوں میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر روس کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکامی کے حوالے سے بھی تنقید میں اضافہ کرچکے ہیں۔
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ریپبلکنز کے لیے عوامی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یکم اکتوبر کو جاری ہونے والے ایسوسی ایٹڈ پریس اور این او آر سی کے سروے کے مطابق، امریکی عوام ایران جنگ سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقۂ کار سے ناخوش ہیں اور کئی دیگر داخلی پالیسی معاملات کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار بھی انہیں قرار دے رہے ہیں۔







