سرینگر؍۱۷؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کرائم برانچ نے کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور اس کی موت کے معاملے میں۱۵ ملزمان کے خلاف ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فردِ جرم متعلقہ عدالت میں داخل کر دی ہے۔
حکام کے مطابق، ایجنسی کی جانب سے تحقیقات کی ذمہ داری سنبھالے جانے کے۶۰روز کے اندر یہ کارروائی مکمل کی گئی۔
فردِ جرم میں۱۴۳ گواہوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے کشتواڑ کی مجاز عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران معاملے کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جن میں نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال، حمل کی مدت زیادہ ہونے کے باوجود مجاز طبی مرکز سے باہر اسے ختم کرنے کی مبینہ کوشش، علاج میں مبینہ کوتاہی اور معاملے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچنے سے روکنے کی کوششیں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق، لڑکی کی۲۰؍ اگست۲۰۲۶ کو موت کے بعد یہ معاملہ ابتدائی طور پر پولیس تھانہ چھاترو میں ایک ایف آئی آرکے تحت درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات خصوصی کرائم ونگ جموں کو منتقل کر دی گئیں، جہاں اسے مختلف ایف آئی آرکے تحت دوبارہ درج کیا گیا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے واقعے کے حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا اور دستیاب شواہد و متعلقہ مواد کی جانچ پڑتال کے ذریعے واقعات کی ترتیب اور اس معاملے میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے کردار کا تعین کرنے کی کوشش کی۔
فردِ جرم میں بھارتیہ نیائے سنہتا۲۰۲۳، بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے سے متعلق قانون (پاکسو)۲۰۱۲؍اور درج فہرست ذاتوں و قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام کے قانون۱۹۸۹کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔
فردِ جرم منصف جج کشتواڑ کی عدالت میں پیش کی گئی، جو باقاعدہ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کی رخصت کے باعث اس عہدے کا اضافی چارج سنبھال رہے ہیں۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم جموں و کشمیر کرائم برانچ کی انسپکٹر جنرل آف پولیس سارہ رضوی، آئی پی ایس، نے تشکیل دی تھی، جبکہ اس کی سربراہی خصوصی کرائم ونگ جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنجے کمار پریہار، جے کے پی ایس، کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ ٹیم نے مربوط کوششوں اور شواہد کی باریک بینی سے جانچ کے ذریعے تحقیقات آگے بڑھائیں، جس کے نتیجے میں مقررہ مدت کے اندر فردِ جرم داخل کرنا ممکن ہوا۔
حکام کے مطابق، اگر مزید شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق مزید تفتیش کی جا سکتی ہے اور ضمنی فردِ جرم بھی داخل کی جا سکتی ہے۔یہ معاملہ فی الحال عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہے اور ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی تعین مجاز عدالت کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










