سرینگر، ۱۵ اکتوبر
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ سونمرگ کو سال بھر ایڈونچر کھیلوں کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں سردیوں کے دوران اسکیئنگ اور اسکیٹنگ جبکہ گرمیوں میں رافٹنگ کو فروغ دینے کے لیے مختلف منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے بتایا کہ گاندربل ضلع کے ترگبل اور موہن مرگ علاقوں میں ماحول دوست سیاحتی مقامات تیار کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے، جس کے لیے متعلقہ حکام سے ضروری منظوری حاصل کی جائے گی۔
گاندربل میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سونمرگ کو سرمائی سیاحتی مقام کے طور پر پہچان ملنے کو ابھی بمشکل ایک سال ہوا ہے۔ اس سے پہلے سردیوں میں سونمرگ بند رہتا تھا اور لوگوں کے لیے وہاں پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تھا، لیکن سرنگ کی تعمیر کے بعد اب یہ مقام سال کے تمام ۱۲ مہینوں میں سیاحوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئے سیاحتی مقامات اور سرمائی کھیلوں کے فروغ کے لیے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ اپنے اسمبلی حلقے گاندربل میں ۷۰ویں قومی اسکول کھیلوں کا افتتاح کرنے اور ضلع میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے موجود تھے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’میری کوشش اور خواہش ہے کہ رکن اسمبلی کنگن میاں مہر علی کے ساتھ مل کر سونمرگ کو سیاحت اور ایڈونچر کھیلوں کے نقشے پر نمایاں مقام دلایا جائے۔ گرمیوں میں رافٹنگ اور سردیوں میں اسکیئنگ و اسکیٹنگ کو فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔‘‘
ترگبل اور موہن مرگ میں ماحول دوست سیاحتی منصوبوں میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسے منصوبوں میں بعض اوقات وقت لگتا ہے، کیونکہ محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے حکام سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے تمام ضروری منظوری حاصل کی جائے گی اور ان نئے مقامات کو سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔
کشمیر یونیورسٹی کے لیے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق سوال پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اراضی کے حصول کے وقت اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور زمین مالکان کے ساتھ طے شدہ شرائط کا احترام کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ زمین مالکان کے ساتھ جو بھی تحریری معاہدہ کیا گیا تھا اور کاغذات پر جو شرائط طے پائی تھیں، ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
گزشتہ دو برس کے دوران گاندربل میں ترقیاتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہماری کوشش رہی ہے کہ حکمرانی کے ہر شعبے تک ترقی کے ثمرات پہنچیں۔ آج بھی تقریباً ۶۰ کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کا یا تو افتتاح کیا گیا یا ان کے سنگِ بنیاد رکھے گئے۔ ان میں دریائے جہلم پر تقریباً ۴۰ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ایک بڑا پل بھی شامل ہے، جس پر کام جاری ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جمعرات کو کئی سڑکوں، ایک اسکول کی عمارت اور ززنہ پھل و سبزی منڈی میں نیلامی کے لیے بنائے گئے شیڈ کا بھی افتتاح کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد گاندربل کے کالج آف فزیکل ایجوکیشن میں منعقد ہونے والے قومی اسکول کھیلوں میں شرکت کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر حصے سے لڑکے اور لڑکیاں ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ جموں و کشمیر کو دو کھیلوں، ووشو اور تائیکوانڈو، کی میزبانی سونپی گئی ہے۔ ان کے مطابق، مقامی بچوں کو ان دونوں کھیلوں میں گہری دلچسپی ہے اور امید ہے کہ یہ کھیلوں کا ایونٹ کامیاب رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










