جموں؍۱۴؍اکتوبر
جموں کی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان میں مقیم ایک دہشت گرد کو۲۰۲۲کے ایک ایسے معاملے میں اشتہاری قرار دے دیا ہے، جس کا تعلق الہدیٰ ایجوکیشن ٹرسٹ (اے ایچ ای ٹی) کے ذریعے مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور کالعدم جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں سے ہے۔
مشتاق احمد میر، جو ضلع راجوری کی تحصیل درہال کے گاؤں تھنہ منگ کا رہنے والا ہے‘۱۹۹۵۔۹۶میں عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم ہے۔
خصوصی جج، این آئی اے عدالت، پریم ساگر نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ۸۴ کے تحت دائر درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مشتاق احمد میر کو اشتہاری قرار دیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم کے خلاف پہلے ہی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جا چکے تھے، تاہم اشتہاری کارروائی شروع ہونے اور اخبارات میں نوٹس شائع کیے جانے کے باوجود نہ تو اسے گرفتار کیا جا سکا اور نہ ہی وہ عدالت میں پیش ہوا۔
این آئی اے کا یہ معاملہ ان الزامات سے متعلق ہے کہ فروری۲۰۱۹میں جماعت اسلامی کو غیر قانونی تنظیم قرار دیے جانے کے بعد بھی الہدیٰ ایجوکیشن ٹرسٹ کے ذریعے اس کے لیے رقوم جمع کی گئیں اور منتقل کی گئیں۔
اگست۲۰۲۵میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے مبینہ طور پر چندہ جمع کرنے اور کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے رقوم استعمال کرنے کے معاملے میں تین ملزمان، جن میں مشتاق احمد میر اور الہدیٰ ایجوکیشن ٹرسٹ بھی شامل ہیں، کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ کی کوششوں کے باوجود مستقبل قریب میں مشتاق احمد میر کی گرفتاری کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اس کے بعد عدالت نے این آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو اشتہاری قرار دے دیا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









