قاضی ناگ نیشنل پارک میں مارخور کی تعداد تین سال میں۲۲۱ سےبڑھ کر۲۲۷ہوگئی‘افزائش نسل اور بچوں کی بقا کی شرح بھی حوصلہ افزا
(ندائے مشرق رپورٹ)
سرینگر؍۹؍اکتوبر
بل کھاتے لمبے سینگوں اور پُرہیبت جسامت کے لیے مشہور نایاب جنگلی جانور مارخور کی تعداد میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا (ڈبلیو ٹی آئی) اور محکمہ جنگلی حیات جموں و کشمیر کی جانب سے کیے گئے تازہ سروے میں اس معدومیت کے خطرے سے دوچار جانور کی آبادی میں معمولی اضافے کی تصدیق ہوئی ہے۔
لائن آف کنٹرول کے قریب واقع کثیف دیودار، چیڑ اور فر کے جنگلات اور بلند چٹانوں سے گھرا قاضی ناگ نیشنل پارک مارخور کا اہم مسکن ہے۔ یہ جانور تاریخی مغل روڈ پر واقع ہیرپورہ وائلڈ لائف سینکچری میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم ہندوستانی زیر انتظام علاقے میں اس کی سب سے بڑی آبادی قاضی ناگ میں موجود ہے۔ تازہ سروے کے نتائج اس نایاب نسل کے تحفظ کے حوالے سے امید افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق،۲۰۲۶کے سروے میں مارخور کی تعداد۲۲۷ درج کی گئی، جبکہ۲۰۲۳ میں یہ تعداد۲۲۱ تھی۔ تازہ سروے قاضی ناگ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں انجام دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قاضی ناگ میں مارخور کی آبادی صحت مند ہے اور بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ہر۱۰۰ بالغ مادہ مارخور کے مقابلے میں۶۹ بچوں کی پیدائش اور ان کی بقا کی شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افزائش نسل کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق،۲۰۲۶کے دوران قاضی ناگ کے علاقے میں چاروں موسموں میں مارخور کے مجموعی طور پر۶۰۰ مشاہدات درج کیے گئے۔ ان میں گرمیوں میں۱۳۱ خزاں میں۱۵۸ ‘ سردیوں میں۱۲۷؍اور بہار میں۱۸۴مشاہدات شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار علاقے میں قائم۱۲ مستقل راستوں پر بار بار نگرانی کے ذریعے جمع کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات جموں و کشمیر، بھارتی فوج اور سرینگر کے فضائی ٹریفک کنٹرول کی باضابطہ اجازت سے ہیرپورہ وائلڈ لائف سینکچری میں پہلی مرتبہ حرارتی کیمرے سے لیس ڈرون کے ذریعے سروے کیا گیا۔ اس جدید طریقۂ کار سے دشوار گزار علاقوں میں جنگلی جانوروں کی موجودگی اور نقل و حرکت کا جائزہ لینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
قاضی ناگ کو نیشنل پارک قرار دیے جانے کے بعد سے مارخور سمیت دیگر جنگلی جانوروں کی تعداد میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان میں کستوری ہرن، گورل اور ٹراگوپن جیسے نایاب پرندے شامل ہیں۔ مارخور کو ہندوستان کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون مجریہ۱۹۷۲ کے شیڈول اوّل میں شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اسے سخت قانونی تحفظ حاصل ہے۔
مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب پایا جاتا ہے۔۱۶۰ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا قاضی ناگ نیشنل پارک ملک کے بڑے قومی پارکوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قاضی ناگ کے علاقے میں مارخور کی آبادی کا جائزہ لینے کے لیے۲۰۰۹؍اور۲۰۱۱ میں بھی وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا نے سروے کیے تھے۔ ان ابتدائی جائزوں کے بعد کیے گئے سروے میں اس کی تعداد۱۵۰ سے۱۷۰ کے درمیان بتائی گئی تھی، جبکہ۲۰۲۳ کے سروے میں یہ تعداد بڑھ کر۲۲۱ درج کی گئی۔ اب۲۰۲۶ کے تازہ تخمینے میں یہ تعداد۲۲۷ تک پہنچ گئی ہے۔
قاضی ناگ نیشنل پارک کا قیام۲۰۰۷ میں عمل میں آیا، جب وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا کے تعاون سے لمبر اور لاچی پورہ کے دو جنگلی حیات کے محفوظ علاقوں کو ناگناری کنزرویشن ریزرو کے ساتھ ملا کر ایک وسیع محفوظ علاقہ تشکیل دیا گیا۔
مارخور، ‘ دنیا میں پائی جانے والی جنگلی بکریوں کی سب سے بڑی نسل ہے اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی ایک ذیلی نسل بھی، جسے پیر پنجال یا کشمیری مارخور کہا جاتا ہے، ہندوستان میں صرف مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر میں پائی جاتی ہے۔ اس محدود جغرافیائی پھیلاؤ کے باعث اس نسل کا تحفظ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سرحدوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے مارخور کے قدرتی مساکن کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔ ان میں مویشیوں کی بے قابو چرائی، سڑکوں کی تعمیر، کان کنی، ہائی ٹینشن بجلی کی تاروں کی تنصیب اور سرحدی باڑ لگانے جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ماضی میں اس کی آبادی میں کمی کے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں، جس کے پیش نظر ماہرین نے اس نسل کی بقا کے لیے مسلسل اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کشمیری مارخور کے تحفظ کے لیے وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا نے۲۰۲۵ میں مارخور ریکوری پروجیکٹ شروع کیا تھا۔ یہ منصوبہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات جموں و کشمیر کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ کشمیری مارخور کو عالمی ادارۂ تحفظ فطرت کی۲۰۱۴کی سرخ فہرست میں ’خطرے کے قریب‘ (نیئر تھریٹینڈ) درج کیا گیا تھا، جبکہ ہندوستانی قانون کے تحت اسے شیڈول اوّل میں شامل کرکے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
گزشتہ چار برسوں کے دوران وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا نے محکمہ تحفظ جنگلی حیات جموں و کشمیر اور ایسٹرل فاؤنڈیشن کے مالی تعاون سے مارخور کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان میں محفوظ علاقوں میں مارخور کی آبادی اور افزائش نسل کی نگرانی، پیر پنجال سمیت اہم مساکن کا تحفظ، مویشیوں کی چرائی کے دباؤ میں کمی، تربیت یافتہ اہلکاروں اور مقامی آبادی کی مدد سے گشت میں اضافہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ کازیناغ نیشنل پارک کے اطراف واقع دیہات میں مقامی لوگوں کے لیے متبادل ذرائع معاش کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی گئی، تاکہ جنگلاتی وسائل پر انحصار کم ہو اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مقامی آبادی کی شمولیت بڑھائی جا سکے۔ مارخور کے تحفظ سے متعلق عوامی آگاہی اور اس نایاب جانور کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی اس منصوبے کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
تازہ سروے کے نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ مسلسل نگرانی، قدرتی مساکن کے تحفظ اور مقامی آبادی کے تعاون سے مارخور کی تعداد میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس نایاب نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ان کوششوں کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
۔۔۔۔۔










