نئی دہلی؍۲؍اکتوبر
مرکز نے جمعہ کو لداخ میں۲۸ تزویراتی مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کو باضابطہ طور پر بھارتی سرکاری نقشے پر درج کیا ہے، جن میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ گوگرا اور ہاٹ اسپرنگ جیسے اہم سرحدی کشیدگی والے مقامات بھی شامل ہیں۔
یہ قدم حکومتِ ہند نے مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے اٹھایا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری نقشہ سازی کو منظم کرنا، مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کی درست شناخت میں سہولت فراہم کرنا اور حساس سرحدی خطے کے بارے میں عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا، ’’حکومتِ ہند نے مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے ساتھ مشاورت سے لداخ میں واقع مجموعی طور پر۲۸ مقامات/جغرافیائی خصوصیات کی نشاندہی کی ہے اور سروے آف انڈیا (ایس او آئی) کے سرکاری نقشے پر ان کے معیاری مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کے نام درج کیے ہیں۔‘‘
بیان میں کہا گیا کہ مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ کے سروے آف انڈیا کے نقشے پر ان مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کی باضابطہ شناخت کا مقصد ان کی درست شناخت میں سہولت فراہم کرنا اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔
گوگرا اور ہاٹ اسپرنگ ان اہم تزویراتی مقامات میں شامل ہیں جہاں۲۰۲۰ میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان تعطل کے دوران کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ یہ علاقے بھارتی فوج کی گشت کے حوالے سے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
بھارتی اور چینی افواج کے درمیان مشرقی لداخ میں سرحدی تعطل۵ مئی۲۰۲۰کو پینگونگ جھیل کے علاقوں میں ہونے والی ایک پرتشدد جھڑپ کے بعد شروع ہوا تھا۔دونوں جانب سے۲۰۲۲ میں فوجی انخلا کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
اس فہرست میں علیشا گیری نامی بلند پہاڑی چوٹی، برنگسا، چپچنگال درہ، کنشکا چوٹی، کرون پیر پہاڑ، کوکسل، مارتند گیری، پرپک گلیشیئر، سکمری گلیشیئر، شچمیرک درہ، شکورگا وادی، زوراوار چوٹی، دیہرا کمپاس اور درک کارپو بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جولموری، کمارایانہ پوائنٹ، پنگ لونگ، رنچن زانگپو، ساکیاسری گیری، گرو رِنپوچے، شمل لنگپا، یانگپا دریا، مارپا لوتساوا ری، میلاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشور ری کو بھی سرکاری نقشے پر باضابطہ طور پر درج کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق شمل لنگپا۱۹۵۰ کی دہائی میں گشت اور فوجی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والا راستہ بھی رہا ہے۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










