نئی دہلی/۲۱؍اگست
وزارت خارجہ نے جمعہ کو پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کار کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر احتجاج کو ’’مایوسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر تبصرہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
وزارت خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جموں، کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے ہیں۔
وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں، کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے ہیں۔ یہ پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کار کے بیان پر احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں جیسوال نے کہا، ’’میں پاکستان کی مایوسی پر تبصرہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں دیکھتا۔ مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے۔‘‘
اسلام آباد نے بدھ کو امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج درج کرایا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق امریکی سفارت کار کا بیان ’’حقائق کے منافی‘‘ ہے اور کشمیر کے بارے میں واشنگٹن کے دیرینہ مؤقف سے متصادم ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی جمعرات کو کہا تھا کہ امریکی سفارت کار کو طلب کرنا پاکستان اور امریکہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔
امریکی سفیر سرجیو گور نے بدھ کو سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد جموں و کشمیر کو ’’بھارت کا ایک اہم حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ۲۰۱۹ میں دفعہ۳۷۰کی منسوخی اور۲۰۲۵ میں پہلگام میں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکی سفیر کا مرکز کے زیر انتظام علاقے کا پہلا الگ دورہ تھا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گور نے جموں و کشمیر کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے مرکز اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لیے اپنے اعلیٰ ترین سطح کے سفری انتباہ میں کمی پر غور کر سکتا ہے۔
گور نے کہا، ’’یہ بھارت کا ایک اہم حصہ ہے اور اسی لیے میں پہلی مرتبہ یہاں آیا ہوں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے اور یہاں آکر اور اسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ہماری ملاقات بہت اچھی رہی اور کچھ امور پر مزید پیش رفت کے لیے ہم انہیں واشنگٹن اور نئی دہلی لے جائیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ کیے گئے ہیں اور امریکہ اپنے سفری انتباہ کا جائزہ لے گا۔
فی الحال امریکہ نے اپنے شہریوں کے لیے جموں و کشمیر کے حوالے سے لیول۴یعنی ’’سفر نہ کریں‘‘ کی ہدایت جاری کر رکھی ہے۔
گور نے کہا، ’’امریکہ سفری انتباہات جاری کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً ان کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے۔ میں آج یہاں کوئی بڑا اعلان نہیں کر سکتا، لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کا ہم جائزہ لینے جا رہے ہیں۔ نئی دہلی، یہاں کے وزیر اعلیٰ اور حکومت نے اس علاقے کو محفوظ بنانے اور مزید محفوظ کرنے کے لیے کچھ انتہائی اہم اقدامات کیے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ موجودہ سفری انتباہ میں کمی کی جانی چاہیے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر ایک خوبصورت خطہ ہے اور انہیں امید ہے کہ بہت سے امریکی یہاں کی خوبصورتی اور موجود مواقع سے لطف اندوز ہونے کے لیے آنا پسند کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں









