سرینگر؍۲۱؍اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو پولو ویو کے قریب ’ویسٹ ٹو ونڈر‘ پھولوں کے باغ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ضائع شدہ اشیا کو تخلیقی انداز میں دوبارہ استعمال کرنے اور تیزی سے پھیلتی شہری آبادی کے درمیان سبز علاقوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ باغ اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ ناکارہ اشیا کو دوبارہ استعمال کرکے عوامی مقامات کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باغ میں ٹریکٹر، اسکوٹر، پرانی جیپ، ایمبیسڈر کار اور حتیٰ کہ پرانے ریفریجریٹر کو بھی پودے لگانے اور سجاوٹ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے عوام پر زور دیا کہ گھریلو اشیا کو پھینکنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، کیونکہ ٹھوس فضلے اور پلاسٹک کے کچرے کی تلفی آج شہری اور دیہی علاقوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ فلوری کلچر کے افسران کو چندی گڑھ کے معروف ’راک گارڈن‘ کا دورہ کرکے اس کے طرز پر کشمیر میں بھی کچھ تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کا منصوبہ سیاحت کے لیے بھی ایک اہم کشش بن سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کشمیر میں تیزی سے سکڑتے سبز علاقوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافے سے زمین کے وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور مکانات کی تعمیر کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم کم سے کم زمین استعمال کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
عمرعبداللہ نے خبردار کیا کہ بجلی اور پانی سمیت کئی وسائل دوبارہ پیدا کیے جا سکتے ہیں، لیکن ایک بار زمین ضائع ہوجائے تو اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ سبز علاقوں کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )









