میکے، 20 اگست (یواین آئی) بنگلہ دیش کے ڈریسنگ روم میں مشفق الرحیم کو نظم و ضبط اور تجربے کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ٹیم کے موجودہ ٹیسٹ اسکواڈ کے ایک سینئر رکن کے مطابق مشفق کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ بنگلہ دیش 22 اگست سے میکے میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں مدمقابل ہوگا۔
مشفق الرحیم نے آسٹریلیا کے خلاف ڈارون میں تاریخی کامیابی کے دوران صرف 36 رنز بنائے، لیکن تنزید حسن تمیم کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان نجم الحسن شانتو کے ساتھ 66 رنز کی اہم شراکت داری کی۔ شانتو جب سنچری کے قریب پہنچ رہے تھے تو مشفق نے دوسرے سرے سے ان کی مسلسل رہنمائی کی، تاہم شانتو 84 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔
بنگلہ دیش کے اس تجربہ کار کھلاڑی میں وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ سابق ساتھی کھلاڑیوں کے مطابق ماضی میں خراب کارکردگی کے بعد ان کے جذبات ڈریسنگ روم میں اثرانداز ہوتے تھے، لیکن اب وہ ذاتی مایوسی پر قابو رکھتے ہوئے اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ بانٹنے اور ساتھی کھلاڑیوں کی مدد کرنے میں زیادہ فعال ہیں۔
مشفق بنگلہ دیش کے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز اور اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے مئی 2005 میں لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔
آسٹریلیا کے خلاف تاریخی فتح کے بعد انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں کو 2022 میں ماؤنٹ مونگانوئی میں نیوزی لینڈ کے خلاف حاصل کی گئی تاریخی ٹیسٹ جیت کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیم نے صرف ایک سیشن جیتنے پر توجہ مرکوز کی تھی اور اسی طرح موجودہ سیریز میں بھی میچ کو ایک، ایک سیشن میں تقسیم کرکے کھیلنا چاہیے۔
مشفق نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ انہیں نتیجے یا حریف ٹیم کے بڑے ناموں کے بارے میں زیادہ سوچنے کے بجائے اپنے عمل اور منصوبے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حالات یا پچ کچھ بھی ہو، حریف بھی انسان ہیں، اس لیے اپنے عمل پر یقین رکھیں اور اللہ پر بھروسہ کریں، نتیجہ خود بخود سامنے آئے گا۔
انہوں نے ڈارون کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنج اب اس کامیابی کو دہرانا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چار، پانچ برسوں میں بنگلہ دیش کے ریڈ بال ڈریسنگ روم میں بڑی ثقافتی تبدیلی آئی ہے اور اب ہر کھلاڑی انفرادی طور پر خود کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
مشفق نے کہا کہ اگر ہر کھلاڑی اپنی کارکردگی میں صرف دو فیصد بہتری لائے اور پوری ٹیم ایک یونٹ کے طور پر متحد ہوجائے تو اس کا اثر بڑے نتائج کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے انفرادی کامیابی سے زیادہ اہم پوری ٹیم کی کامیابی ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف اگلے ٹیسٹ میں مشفق ایک بار پھر بیٹ ہاتھ میں لیے میدان میں اتریں گے، جہاں ان سے بڑی اننگز کی توقع ہوگی۔ تاہم ان کا ایک اہم کردار ڈارون کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹیم کو بلند حوصلے کے ساتھ متوازن رکھنا اور ساتھی کھلاڑیوں کو مسلسل رہنمائی فراہم کرنا بھی ہوگا۔






