یروشلم، 15 اگست (یو این آئی) مقبوضہ مغربی کنارے میں ہفتے کے روز فلسطینی ووٹرز کی رجسٹریشن اور انتخابی معلومات کی تجدید کا عمل شروع ہوگیا۔ یہ اقدام 28 نومبر کو ہونے والے قانون ساز انتخابات سے قبل کیا جا رہا ہے، جس سے تقریباً دو دہائیوں بعد پہلے فلسطینی پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مرکزی انتخابی کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق رجسٹریشن مراکز ہفتے کی صبح کھول دیے گئے اور بدھ کی شام تک کھلے رہیں گے۔
کمیشن نے ان اہل فلسطینیوں سے، جن کے نام فی الحال انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہیں، رجسٹریشن کرانے کی اپیل کی، جبکہ پہلے سے رجسٹرڈ ووٹرز سے ضرورت کے مطابق اپنی معلومات اپ ڈیٹ کرنے کو کہا۔ کمیشن نے ووٹر رجسٹریشن کو انتخابات کی تیاریوں میں ایک اہم مرحلہ قرار دیا۔
کمیشن کے مطابق انتخابات مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی، بشمول یروشلم میں ہوں گے۔ 17 سال یا اس سے زیادہ عمر کے فلسطینی ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے اہل ہیں۔
موجودہ رجسٹریشن اور معلومات اپ ڈیٹ کرنے کا عمل صرف مغربی کنارے تک محدود ہے۔ کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹرز کی رجسٹریشن فلسطینی سول رجسٹری میں موجود معلومات کی بنیاد پر خودکار طور پر کی جائے گی۔
28 نومبر کے انتخابات 2006 کے بعد پہلے فلسطینی قانون ساز انتخابات ہوں گے۔ یہ انتخابات فلسطینی دھڑوں کے درمیان کئی برس سے جاری سیاسی تقسیم اور غزہ میں تباہ کن جنگ کے بعد منعقد ہورہے ہیں۔ توقع ہے کہ انتخابات فلسطینی اداروں کی بحالی اور ان کی سیاسی ساکھ دوبارہ قائم کرنے کی کوششوں کا امتحان ثابت ہوں گے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے بدھ کے روز کہا کہ تنظیم انتخابات میں "وسیع ترین ممکنہ قومی اتحاد” کے تحت حصہ لے گی۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے 9 جولائی کو ایک صدارتی فرمان جاری کرکے قانون ساز انتخابات کے لیے 28 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔
صدارتی انتخابات 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہیں، تاہم ان کی تاریخ کا اعلان بعد میں الگ سے کیا جائے گا۔
انتخابی کمیشن کے شیڈول کے مطابق امیدوار 26 ستمبر سے 7 اکتوبر تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے، جبکہ انتخابی مہم 6 نومبر سے شروع ہوگی، یعنی ووٹنگ سے تین ہفتے قبل۔






