نئی دہلی، 14 اگست (یواین آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے یہ حکم بی جے پی کارکن ایس وگنیش ششر کی اس عرضی پر آیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کانگریس رہنما کے پاس ان کی معلوم آمدنی کے ذرائع سے کہیں زیادہ اثاثے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ راہل گاندھی نے ایک الگ عرضی بھی دائر کی ہے، جس میں معاملے کی کارروائی کو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
معاملے کی سماعت پیر، 17 اگست کو چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے ہوگی۔ ہائی کورٹ نے مئی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو ششر کی جانب سے راہل گاندھی اور ان کے اہل خانہ پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات اور تصدیق کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اس کے بعد 20 جولائی کو جسٹس برج راج سنگھ اور جسٹس راجیش سنگھ چوہان پر مشتمل ہائی کورٹ کی بنچ نے سی بی آئی کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ایجنسی کو تحقیقات میں پیش رفت کی تفصیلات کے ساتھ نیا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔
ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو نیا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سی بی آئی کا جوابی حلف نامہ سابقہ حکم کے مطابق نہیں ہے اور عدالت بھی ایجنسی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کی پیش رفت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی نے ضروری اقدامات کیے ہیں اور کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران مزید کارروائی کے لیے کوئی ٹھوس معلومات سامنے آتی ہیں تو ایجنسی قانون کے مطابق آگے بڑھ سکتی ہے۔
ہائی کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ کارروائی اسی بنچ کے سامنے ’پارٹ ہیرڈ‘ معاملے کے طور پر جاری رہے گی اور اگلی سماعت کے لیے 20 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مسٹر راہل گاندھی نے اب سپریم کورٹ میں ان ہدایات کو چیلنج کیا ہے۔
وگنیش ششر الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایک الگ معاملے میں بھی درخواست گزار ہیں، جس میں انہوں نے شہریت کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر راہل گاندھی کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس رہنما کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ کے علاوہ برطانوی پاسپورٹ بھی تھا۔







