نئی دہلی، 14 اگست (یواین آئی) مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان پٹرولیم مصنوعات اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال جولائی میں تھوک قیمتوں پر مبنی مہنگائی کی شرح مسلسل تیسرے ماہ 9 فیصد سے زیادہ رہی۔
وزارتِ تجارت و صنعت کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں تھوک مہنگائی کی شرح 9.78 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رواں سال جون میں یہ شرح 9.87 فیصد اور مئی میں 9.88 فیصد تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں تھوک مہنگائی 8.36 فیصد رہی تھی۔
تھوک مہنگائی میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ خام تیل، قدرتی گیس، معدنی تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر ہونے والا اضافہ ہے۔ ایندھن اور توانائی کے زمرے میں مہنگائی کی شرح 20.05 فیصد جبکہ تیار شدہ مصنوعات کی مہنگائی 8.29 فیصد رہی۔ معدنی تیل کی قیمتیں ایک سال قبل کے مقابلے میں 32.4 فیصد اور خام تیل و قدرتی گیس کی قیمتیں 26.99 فیصد بڑھیں۔
تیار شدہ اشیا میں کھانے پینے کی مصنوعات سالانہ بنیاد پر 8.89 فیصد مہنگی ہوئیں۔ تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں 13.36 فیصد، کپڑوں میں 12.8 فیصد، کیمیکل اور کیمیائی مصنوعات میں 13.12 فیصد، ربڑ اور پلاسٹک کی مصنوعات میں 10.38 فیصد، بنیادی دھاتوں میں 12.56 فیصد اور برقی آلات میں 12.34 فیصد اضافہ ہوا۔
بنیادی مصنوعات میں کھانے پینے کی اشیا 5.44 فیصد، غیر غذائی مصنوعات 17.66 فیصد اور معدنیات 13.28 فیصد مہنگی ہوئیں۔
رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ، یعنی اپریل سے جولائی کے دوران مجموعی تھوک مہنگائی کی شرح 9.47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں خام تیل اور قدرتی گیس کی مہنگائی کی شرح 44.62 فیصد جبکہ معدنی تیل کی 42.4 فیصد رہی۔ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کوئلہ اور لگنائٹ 1.46 فیصد جبکہ بجلی 0.65 فیصد سستی ہوئی۔
رواں سال 28 فروری کو شروع ہونے والے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث خام تیل، قدرتی گیس اور معدنی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔ مہنگے ایندھن کے باعث تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خوردہ مہنگائی بھی مسلسل 9 فیصد سے زیادہ کی بلند سطح پر برقرار ہے۔






